سلسلہ احمدیہ — Page 135
135 اسی طرح آپ نے فرمایا: خداوند تعالیٰ نے اس احقر عباد کو اس زمانہ میں پیدا کر کے اور صد ہانشان آسمانی اور خواری غیبی اور معارف و حقائق مرحمت فرما کر اور صد با دلائل عقلیہ قطعیہ پر علم بخش کر یہ ارادہ فرمایا ہے کہ تا تعلیمات حصہ قرآنی کو ہر قوم اور ہر ملک میں شائع اور را انج فرمادے اور اپنی محبت ان پر پوری کرے۔براہین احمدیہ۔روحانی خزائن جلد اول صفحہ 596 حاشیہ نمبر (3) عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ صرف رسمی اور ظاہری طور پر قرآن شریف یا اس کے تراجم کو پھیلانا ہی خدمت قرآن ہے۔مگر حضور عالی کلام نے فرمایا: صرف رسمی اور ظاہری طور پر قرآن شریف کے تراجم پھیلانا یا فقط ک دینیہ اور احادیث نبویہ کو اردو یا فارسی میں ترجمہ کر کے رواج دینا یا بدعات سے بھرے ہوئے خشک طریقے جیسے زمانہ حال کے اکثر مشائخ کا دستور ہورہا ہے سکھلانا، یہ امور ایسے نہیں ہیں جن کو کامل اور واقعی طور پر تجدید دین کہا جائے بلکہ مؤخر الذکر طریق تو شیطانی راہوں کی تجدید ہے اور دین کا رہزن۔قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کو دنیا میں پھیلانا بیشک عمدہ طریق ہے مگر رسمی طور پر اور تکلف اور فکر اور خوض سے یہ کام کرنا اور اپنا نفس واقعی طور پر حدیث اور قرآن کا مورد نہ ہونا ایسی ظاہری اور بے مغز خدمتیں ہر ایک با علم آدمی کر سکتا ہے اور ہمیشہ جاری ہیں۔ان کو مجد دیت سے کچھ علاقہ نہیں۔یہ تمام امور خدا تعالیٰ کے نزدیک فقط استخوان فروشی ہے اس سے بڑھ کر نہیں“۔اسی طرح فرمایا: جولوگ خدا تعالی کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں وہ نرے استخوان فروش نہیں ہوتے بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں۔خدا تعالیٰ انہیں ان تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں اور ان کی باتیں از قبیل جوشیدن ہوتی ہیں،