سلسلہ احمدیہ — Page 111
سپین 111 حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ نے مورخہ 10 ستمبر 1982ء کو سپین کے شہر پیدرو آباد میں سات سو سال بعد تعمیر ہونے والی مسجد بشارت کا افتتاح فرمایا۔اس مسجد کی تعمیر جماعت احمدیہ کے صد سالہ جو بلی منصوبہ کے ایک اہم حصہ کے طور پر ہوئی۔اس کا سنگ بنیاد حضرت خلیفہ مسیح الثالث نے بنفس نفیس سپین تشریف لے جا کر مورخہ 19اکتوبر 1980ء کو دورہ یورپ کے دوران رکھا تھا۔اس کے افتتاح کی تاریخ حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ نے اپنے وصال سے قبل مقرر فرمائی تھی۔افتتاح مسجد بشارت اس موقع پر چار بر اعظموں ایشیا، یورپ، افریقہ اور امریکہ کے 40 ممالک سے دو ہزار کے قریب احمدی موجود تھے۔حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے اس موقع پر اپنے تاریخی خطبہ جمعہ فرموده 10 ستمبر 1982ء میں فرمایا : مسجدوں کی تعمیر ایک بہت ہی مقدس فریضہ ہے۔لیکن جو مسجد میں ہم بنا رہے ہیں یہ کوئی ایسا واقعہ نہیں جیسا کہ عام طور پر دنیا میں ہوتا ہے۔ان مسجدوں کے پس منظر میں لمبی قربانیوں کی تاریخ ہے۔یہ کچھ امیر لوگوں کی وقتی کوشش یا جذباتی قربانی کا نتیجہ نہیں۔کچھ ایسے لوگوں کی جن کو خدا نے زیادہ دولت بخشی ہو اور وہ نہ جانتے ہوں کہ کہاں خرچ کرنی ہے۔بلکہ خصوصا اس مسجد کے پیچھے تو ایک بہت ہی لبی ، گہری ، مسلسل قربانیوں کی تاریخ ہے۔“ خطبات طاہر جلد اول / خطبات 1982، صفحہ 136) اس موقع پر مسجد کے افتتاح کی مناسبت سے منعقدہ خصوصی تقریب میں احمدی احباب کے علاوہ قریبا تین ہزار مقامی سپینش افراد نے شرکت کی۔اسی طرح سپین کے مقامی اخبارات اور پریس و میڈیا اور مختلف نیوز ایجنسیز کے پچاس سے زائد نمائندگان اس تقریب میں شامل ہوئے۔اور نہ صرف سپین کے ذرائع ابلاغ نے اس تقریب کو بہت نمایاں کر کے شائع اور نشر کیا بلکہ یورپ اور دنیا کے متعدد ممالک کے سمعی و بصری نشریاتی اداروں نے اس مسجد کے افتتاح کی تقریب کی نہایت خوش آئند الفاظ