سلسلہ احمدیہ — Page 81
81 ہوتے رہے۔اس جگہ منعقد ہونے والے آخری جلسہ کی حاضری بائیس ہزار افراد پر مشتمل تھی۔اس جگہ ایڈیشنل وکالت اشاعت اور ایڈیشنل وکالت تصنیف کے دفاتر کے علاوہ رقیم پریس اور مختلف زبانوں کے مرکزی ڈیسکس کے دفاتر بھی قائم ہوئے اور متعد ومرکزی مبلغین وسٹاف کی رہائش کے طور پر بھی یہ جگہ زیر استعمال رہی۔حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ کی وفات کے بعد آپ کی تدفین بھی اسلام آباد میں ہی ہوئی۔بعد ازاں آپ کی حرم محترمہ آصفہ بیگم صاحبہ (مرحومہ) کی نعش بھی بروک ڈڈ کے قبرستان سے اسلام آباد منتقل کی گئی اور آپ کے مزار کے پہلو میں تدفین عمل میں آئی۔جیسا کہ حضور رحمہ اللہ نے فرمایا تھا اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ جگہ بھی جماعتی ضروریات کے لئے چھوٹی پڑ گئی اور خلافت خامسہ کے مبارک عہد میں 2005ء میں اللہ تعالی نے جماعت کو 208 رایکٹر رقبہ ر مشتمل قطعہ زمین عطا فرمایا جس کا نام حضرت خلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالی نے حدیقہ المہدی عطا فر مایا۔جہاں 2006ء سے جماعت احمدیہ برطانیہ کے جلسہ سالانہ کا انعقاد ہو رہا ہے۔حضور رحمہ اللہ نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 13 ستمبر 1985ء بمقام من سپیٹ ہالینڈ میں فرمایا:۔۔۔ساری جماعت احمدیہ کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ جب لوگ یعنی دشمن جماعت احمدیہ کے گھر چھین رہے تھے یا جلا رہے تھے تو اللہ تعالی آسمان سے یہ ہدایت دے رہا تھا کہ وَشِعُ مَحانَكَ ) سراج منیر - روحانی خزائن جلد 12 صفحہ 73) اپنے مکانوں کو وسیع کرنے کی تیاری کرو اور ہر دفعہ جماعت احمدیہ کے مکانات ہر ابتلا کے بعد وسیع تر ہوتے چلے گئے۔اس کی بارہا میں نے مثالیں دی ہیں۔اتنی کثرت کے ساتھ اس کی مثالیں ہر ابتلا کے دور میں ملتی ہیں کہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں تک ہیں کہ جن احمدی گھروں کو جلایا گیا یا لوٹا گیا، جن کو کھنڈروں میں تبدیل کیا گیا ان گھروں کے مکینوں کو خدا تعالٰی نے اتنے وسیع مکان عطا فرمائے، اتنے خوبصورت، اتنے عظیم الشان کہ ان کے مقابل پر وہ پہلے گھر محض جھونپڑے دکھائی دیتے تھے۔تو یہ تو ایک انفرادی سلوک تھا خدا تعالیٰ کا جماعت کے ساتھ۔اسی قسم کا سلوک بلکہ اس سے بھی بڑھ کر جماعت کے ساتھ بھی ہوتا چلا آیا ہے۔ایک ملک میں زمین تنگ کرنے کی کوشش کی گئی تو نے ملک عطا کر دیئے گئے نئی تبلیغ میں وسعتیں پیدا کردی گئیں اور نئی سرزمین خدا کی