سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 81 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 81

81 محروم نہ رہ جائیں لوگ ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے۔حضور آہستہ آہستہ قدم بڑھاتے ہوئے احباب سے مصافحہ فرما رہے تھے۔جب ہجوم بہت بڑھ گیا اور حضور کے لئے آگے بڑھنا ممکن نہ رہا تو آپ نے فرمایا کہ میں یہیں کھڑا رہوں گا جب تک احباب گزرنے کے لئے راستہ نہ بنا دیں۔یہ ارشادسن کر سب قطاروں میں کھڑے ہو گئے اور حضور ان کے درمیان سے گزرتے ہوئے کمرہ انتظار میں تشریف لے گئے۔یہاں پر کھڑے ہو کر حضور نے ایک بار پھر دعا کروائی۔اور ساڑھے دس بجے کے قریب جہاز کراچی کے لئے روانہ ہو گیا۔کراچی پہنچنے کے بعد آپ مکرم چوہدری محمد خالد صاحب ابن حضرت چوہدری محمد شریف صاحب کی کوٹھی پر پہنچے اور ظہر اور عصر کی نمازوں کے بعد آپ دیر تک احباب میں تشریف فرما ر ہے۔آپ نے فرمایا کہ آجکل بد قسمتی سے ہمارے ملک میں سیاسی کفر بازی کا بازارگرم ہے۔میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اس کے نتیجے میں ہماری نوجوان نسل اسلام سے نعوذ باللہ متنفر نہ ہو جائے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت سید ولد آدم حضرت محمد ﷺ کی زبانِ مبارک سے تو یہ نکلوایا کہ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ یعنی میں تمہارے جیسا انسان ہوں اور اس طرح بنی نوع انسان کا شرف اور عزت قائم فرمائی۔جب تک انسانی عزت قائم نہیں ہوتی۔دنیا سے فساد دور نہیں ہوسکتا۔مغرب کے وقت حضور احمد یہ ہال تشریف لے گئے۔پہلے مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کی گئیں۔پھر حضور نے نصف گھنٹہ تک اپنے دورہ افریقہ کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور اس کے بعد اجتماعی دعا ہوئی۔اگلے روز ساڑھے سات بجے حضور زیورک کے لئے روانہ ہو گئے۔تہران وقت کے مطابق سوا نو بجے ہوائی جہاز کچھ دیر کے لئے تہران کے ایئر پورٹ پر رکا۔یہاں پر موجود احمدی باہر پھولوں کے ہار لئے منتظر تھے۔وہ شیشے سے حضور کو دیکھ سکتے تھے لیکن ایئر پورٹ کے قواعد انہیں لاؤنج میں آنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔مقامی احمدیوں کی طرف سے کوشش بھی کی گئی تھی کہ انہیں اندر آنے کی اجازت مل جائے لیکن اس میں کامیابی نہیں ہوئی تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے احباب کی بے تابی کو ملاحظہ فرمایا تو خود ڈیوٹی آفیسر کو مسکرا کر فرمایا کہ یہ لوگ مجھے ملنا چاہتے ہیں کیا یہ اندر آ سکتے ہیں۔اس پر ڈیوٹی آفیسر نے ایک نظر حضور کی طرف دیکھا اور پھر خوشی اور بشاشت سے کہا کہ یہ سب لوگ اندر آ سکتے ہیں۔اس طرح تہران کے احمدیوں نے حضور سے ملاقات کا شرف حاصل کیا تہران سے جہاز استنبول کے لئے روانہ ہوا اور پھر وہاں سے جنیوا کے