سلسلہ احمدیہ — Page 60
60 کامیاب تھا اللہ تعالیٰ کے فضل سے۔نمازی تو صرف تین صد سے اوپر تھے مگر زائرین سے سارا احاطہ بھرا ہوا تھا۔سینکڑوں کھڑے نظر آ رہے تھے۔۔۔۔۔۔میرا خیال ہے کہ سینکڑوں نے چائے میں بھی شمولیت اختیار کی۔کھانے میں اللہ تعالیٰ نے اس قدر برکت ڈالی کہ پھر بھی کچھ بچے ہی گیا۔صرف ایک شخص تھا جس نے کچھ نہیں کھایا یعنی خاکسار کیونکہ پریس انٹرویو میں پوری توجہ سے نمائندگان سے مخاطب تھا۔یہ پہلی جگہ ہے جہاں اخباروں نے اسلام کے، ہمارے خلاف بھی لکھا ہے۔یعنی خدا کی زمین میں کھاد بھی پڑ گئی ہے، آسمانی پانی سے بھی حصہ ملا ہے۔امید ہے اور دعا کہ فصل اچھی ہوگی۔الحمد للہ۔ریڈیو ٹیلی ویژن نے افتتاح کی خبریں نشر کی ہیں۔اور بہت سے اخباروں نے بڑی بڑی تصاویر کے ساتھ نوٹ دیئے ہیں حق میں بھی اور خلاف بھی۔زائرین کل سے آئے چلے جا رہے ہیں اور آتے رہیں گے۔امید ہے۔اللہ تعالیٰ کا بے حد احسان ہے۔وله الحمد۔بے حد دعائیں کرتی رہیں اور کرواتی رہیں۔(۱۱) مکرم امیر صاحب مقامی ، صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کے تار کے جواب میں حضور نے بذریعہ تاریہ پیغام بھجوایا:۔”۔۔۔مسجد نصرت جہاں کا افتتاح بلا شبہ ہماری تاریخ کا ایک عظیم واقعہ ہے۔لیکن ہمیں یہ امر فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اب ہم پر اور بھی زیادہ گراں بہا ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اور وہ یہ کہ آئندہ ہمیں اور بہت سی مسجد میں تعمیر کرنا ہیں اور اپنے حقیقی احمدی ہونے کا ثبوت دینا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔( الفضل ۲ اگست ۱۹۶۷ء ص ۸) جب ذرائع ابلاغ میں اس مسجد کی تعمیر کا وسیع پیمانے پر چرچا ہوا تو عیسائی چرچ بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔چنانچہ ڈینیش مشنری سوسائٹی کے سیکریٹری نے عیسائی علماء کے ساتھ تبادلہ خیالات کی غرض سے حضور سے ایک ملاقات کی۔اس وفد نے حضور سے مختلف سوالات کرنے شروع کئے اور یہ سوال بھی کیا کہ جماعت احمدیہ اور اہل تشیع اور اہلِ سنت کے تعلقات کیسے ہیں۔اور پھر یہ سوال کیا کہ مستقبل میں احمدیت کے عیسائیت سے تعلقات کیسے ہوں گے؟ اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ موجودہ عیسائیت اور اسلام میں بہت زیادہ فرق ہے۔لیکن ایک عیسائی اور مسلمان میں