سلسلہ احمدیہ — Page 644
644 مڈغاسکر میں تبلیغی مساعی کا آغاز بہت سی جگہیں ایسی ہیں جہاں ابتداء میں جماعت مشن تو نہ قائم کر سکی لیکن اس کے قریب کے ممالک سے وفود نے جا کر تبلیغی مساعی کا آغاز کیا اور اس طرح یہاں پر جماعت احمدیہ کا پودا لگا۔مڈغاسکر بھی ایک ایسا ہی ملک ہے۔مڈغاسکر مشرقی افریقہ میں واقعہ ہے اور یہاں پر احمدیت کا تعارف ماریشس کے ذریعہ ہوا۔ماریشس سے وقتا فوقتا مڈغاسکر لٹریچر بھجوایا گیا۔۱۹۷۳ء میں مکرم قریشی محمد اسلم صاحب نے وہاں کا دورہ کیا اور آپ کے ہمراہ ماریشس کے ایک احمدی دوست صالح یوسف اچھا صاحب بھی تھے۔قریشی اسلم صاحب جلد واپس آگئے لیکن اچھا صاحب اٹھارہ روز وہاں رہے اور تبلیغ کا کام کرتے رہے۔اس کے بعد مکرم صالح محمد خان صاحب مربی سلسلہ نے ۱۹۷۶ء میں وہاں کا دورہ کیا۔وہاں کے ابتدائی احمد یوں میں مکرم حمادی صاحب، رفیقی اسماعیل صاحب ،عبدالمومن صاحب، Mr Albert Alfred Totozafy اور Mr۔Mady Agoudo شامل ہیں۔زائرے میں احمدیت زائرے کے ایک حصہ میں سواحیلی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔جب جماعت کا لٹریچر سواحیلی میں شائع ہوا تو یہ زائرے بھی پہنچا۔زائرے کے شمالی صوبے کیسا نسانی (Kisansani) کی سرحد یوگینڈا سے اور دو مشرقی صوبوں با کاوو (Bukavu) اور کیلا نگا (Kitanga) کی سرحد تنزانیہ سے ملتی ہے اور سب سے پہلے انہی صوبوں میں احمدیت کا تعارف پہنچا۔اس ملک میں سب سے پہلے احمدیت کو قبول کرنے کی سعادت مشرقی صوبہ کے مکرم ابراہیم کانکو(Kankoo) صاحب کے حصہ میں آئی۔اسی طرح کینا گا (Kinaga) کے یوسف صاحب نے بھی اس دور میں بیعت کی۔۱۹۷۰ ء تک زائرے کے مختلف علاقوں میں کچھ لوگ احمدیت قبول کر چکے تھے اور ان کے ذریعہ بھی احمدیت کا پیغام پھیلنے لگا تھا۔اسی عرصہ میں کیوو (Kivu) کے علاقے میں بھی احمدیت کا پودا لگا۔مغربی کسائی میں کے علاقے میں احمدیت کو متعارف کراونے میں مکرم عثمان بابن بانٹو نے خصوصی کوششیں کیں اور ۱۹۷۶ء میں آپ کے ذریعہ ۸۱ افراد کو احمدیت قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔