سلسلہ احمدیہ — Page 643
643 1949ء میں سیرالیون جماعت کی سالانہ کانفرنس منعقد ہوئی تو اس پر حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے اپنے پیغام میں فرمایا :۔جماعت ہائے احمد یہ سیرالیون کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ عظیم الشان مقاصد اور فتوحات عظیم الشان قربانیاں چاہتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اسلام کی فتح اور غلبہ کے جو وعدے فرمائے ہیں، ان کے مطابق اسلام کی فتح اور غلبہ کے دن قریب ہیں۔اس لئے اس راہ میں ہر قسم کی قربانیاں پیش کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ اور اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت حاصل کرنے کیلئے دعائیں کرو کہ اس کی مدد اور تائید کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔(۸) ۱۹۶۹ ء تک سیرالیون میں جماعت احمدیہ کی سکولوں کی مجموعی تعداد ۲۴ ہو چکی تھی۔ان میں پرائمری، مڈل اور سکینڈری سکول شامل تھے۔(۹) مکرم مولانامحمد صدیق گورداسپوری صاحب نے پہلے جولائی ۱۹۶۸ء سے لے کر ۱۹۷۲ ء تک سیرالیون میں امیر ومشنری انچارج کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پائی۔پھر ۱۹۷۹ء سے لے کر ۱۹۸۴ء تک آپ نے سیرالیون میں خدمات سر انجام دیں۔جب سیرالیون جانے سے قبل مولانا محمد صدیق گورداسپوری صاحب حضور سے ملاقات کے لئے حاضر ہوئے تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ سیرالیون کے موجودہ حالات بتاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے برکت اُٹھالی ہے اور سیرالیون مشن اب باہر کی مدد کا طالب ہو رہا ہے۔نصرت جہاں کے بعض ڈاکٹر ز کو گیمبیا سے رقم منگوا کر الاؤنس دیا گیا ہے جو افسوسناک ہے۔لہذا جماعت کو چالیس روزوں کا چلہ کرائیں اور ہر پانچ روز کے بعد ایک روزہ رکھوائیں اور اپنے گناہوں کی خدا تعالیٰ سے معافی مانگیں۔پھر فرمایا کہ کام کریں اور لوگوں سے محبت اور پیار سے پیش آئیں۔اللہ تعالی مدد فرمائے گا۔چنانچہ سیرالیون کے احباب جماعت کو بذریعہ سرکلر اس ارشاد کی اطلاع دی گئی اور جلد سیرالیون کی جماعت میں برکت کے آثار پیدا ہونے شروع ہوئے اور مشن ایک بار پھر اپنے پاؤں پر کھڑا ہو گیا۔(1) الفضل ۳ مارچ ۱۹۶۶ ص ۳ (۲) الفضل ۱۶/ نومبر ۱۹۶۶، ص ۵ (۳) الفضل ۲۹ نومبر ۱۹۶۶ ص ۳ و ۴ (۴) الفضل ۲۲ فروری ۱۹۶۹ء ص ۸ (۵) الفضل ۲۵ دسمبر ۱۹۶۹ ء ص ۳ (۶) الفضل ۶ جنوری ۱۹۶۶ء ص ۳ (۷) الفضل ۸ رمئی ۱۹۶۶ء (۸) الفضل ۱۵ / اپریل ۱۹۶۹ء ص ۴ (۹) الفضل ۲۸ ستمبر ۱۹۶۹ء ص ۴