سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 55 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 55

55 نے اپنی مسجد اور مشن ہاؤس بھی تعمیر کئے تھے۔۱۹۶۷ء میں جرمنی میں فرینکفورٹ کے علاوہ نیورمبرگ اور ہمبرگ میں بھی جماعت کے مشن کام کر رہے تھے۔جب حضرت خلیفۃ اسیح الثالث فرینکفورٹ پہنچے تو ہوائی اڈے پر یہاں کی جماعت مکرم فضل الہی انوری صاحب مبلغ فرینکفورٹ کی قیادت میں استقبال کے لئے موجود تھی (۷)۔یہاں پر حضور نے دو روز کے لئے قیام فرمانا تھا۔9 جولائی کو حضور نے ایک نہایت مصروف دن گزارا۔حضور نے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے احباب سے ملاقات کی۔اور تین احباب نے بیعت کی۔سہ پہر کو حضور نے ایک استقبالیہ میں شرکت فرمائی۔اس میں معززین شہر، مقامی جماعت کے افراد، کچھ ایرانی مسلمانوں اور جرمنی کی دوسری جماعتوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اس میں شہر کی انتظامیہ کے صدر روڈولف ٹیفس صاحب (Rudolf Tefs)، شہر کی عدلیہ کے ایک حج ،شہر کے نائب میئر اور پادری صاحبان اور شہر کی دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔اس استقبالیہ میں حضور نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ فرینکفورٹ میں میری پہلی آمد نہیں ہے۔جب میں آکسفورڈ میں پڑھتا تھا اُسوقت بھی میں یہاں آیا تھا۔آپ نے اپنے خطاب میں فرمایا الله کہ صرف اسلام ہی کا خدا زندہ خدا ہے۔اور صرف محمد رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے زندہ رسول ہیں۔اور آنحضرت ﷺ کے فرزند جلیل حضرت مسیح موعود علیہ السلام زندہ خدا کے مظہر اور زندہ نشان ہیں اور میں ان کے نمائندے اور جانشین کی حیثیت سے دعوت مقابلہ دیتا ہوں کہ اگر کسی عیسائی کو بھی دعوی ہے کہ اس کا خدا زندہ خدا ہے تو وہ میرے ساتھ قبولیتِ دعا میں مقابلہ کرے اور اگر وہ جیت جائے تو ایک گرانقدر انعام حاصل کرے۔اس استقبالیہ میں شرکاء شام تک ٹھہرے رہے اور حضور سے اسلام کے بارے میں مختلف سوالات پوچھتے رہے۔مقامی اخبارات نے حضور کی آمد کی خبر کو آپ کے تعارف کے ساتھ شائع کیا۔(۸) ۱۰ جولائی کو حضرت خلیفہ اسیح الثالث فرینکفورٹ سے سوئٹزر لینڈ کے شہر زیورک تشریف لے گئے۔یہاں پر جماعت کا مشن ۱۹۴۸ء سے قائم ہے۔حضور کے دورہ کے وقت زیورک میں مکرم چوہدری مشتاق احمد باجوہ صاحب جماعت کے مبلغ کے طور پر کام کر رہے تھے۔اور ۱۹۶۳ء میں یہاں پر جماعت کی مسجد کا افتتاح بھی ہوا تھا۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث ہوائی اڈہ پر پہنچے تو مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ کی قیادت میں احباب جماعت جن میں یہاں کے مقامی مسلمان