سلسلہ احمدیہ — Page 638
638 میں حصہ دار بننے کے لئے کیا کر رہے ہو۔خدا تعالیٰ تو انہی پر اپنے فضلوں کی بارش کرے گا جو اچھا نمونہ پیش کریں گے۔امریکہ میں مقیم پاکستانی احمدیوں کو مخاطب کر کے حضور نے فرمایا تم یہاں کے لوگوں کے لئے نمونہ بنو۔برانمونہ پیش نہ کرو۔سوچو اور غور کرو۔اور پھر امریکی احمد یوں کو مخاطب کر کے فرمایا تم بھی اپنے ہم وطنوں کے لئے نمونہ بنے کی کوشش کرو۔واشنگٹن میں آٹھ روز قیام کے بعد حضور امریکہ سے واپس لندن تشریف لے گئے۔انگلستان میں حضور کے قیام کے دوران ایک اور اہم تاریخی واقعہ یہ تھا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے انگلستان میں پانچ نئے مراکز تبلیغ کا افتتاح فرمایا۔مسجد فضل لندن کے افتتاح کو پچپن برس گزر چکے تھے۔اس دوران انگلستان میں کسی نئے مشن ہاؤس کا آغا ز نہیں ہوا تھا۔لیکن اس سال حضور کی بابرکت آمد کے موقع پر مانچسٹر، ہڈرزفیلڈ، بریڈ فورڈ ، ساؤتھ ہال اور برمنگھم میں نئے مشن ہاؤسز کا افتتاح عمل میں آیا۔پانچ سو سال بعد سپین میں مسجد کا سنگ بنیاد اس دورہ کے تقریباً آخر میں سپین میں جماعت کی پہلی مسجد کا تاریخی سنگ بنیا درکھا گیا۔سپین وہ ملک ہے جہاں کے مسلمانوں نے صدیوں تک حکومت کی وہاں کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام کو قبول کیا۔لیکن جب وہاں مسلمان بادشاہوں کا زوال ہوا اور عیسائی بادشاہوں کی حکومت قائم ہوئی تو وہاں سے جبر کے ذریعہ اسلام کو مٹایا گیا۔پھر کئی سو برس تک وہاں پر مسلمانوں کا نام ونشان مٹادیا گیا۔مذہبی رواداری کے فقدان کا یہ عالم تھا کہ کسی دوسرے مذہب کے پیرو کارکو وہاں پر تبلیغ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ مکرم ومحترم کرم الہی ظفر صاحب نے بہت نامساعد حالات میں وہاں پر تبلیغ کو جاری رکھا۔لیکن سپین میں مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ملتی تھی۔آخر کار ملک میں ان قوانین کو نرم کیا گیا تو مسجد کا سنگ بنیا در رکھنے کی اجازت ملی۔اس تاریخی مسجد کی تعمیر کے لئے پید رو آباد کے قصبے کا انتخاب کیا گیا جو سے کچھ فاصلے پر ہے۔اس سنگ بنیاد کے لئے 9 را کتوبر ۱۹۸۰ء کے دن کا انتخاب کیا گیا۔حضور کا قیام قرطبہ کے ہوٹل Meila میں تھا۔افتتاح والے روز حضور نے سب کو ارشاد فرما دیا تھا کہ یہ وقت میں دعاؤں میں گزارنا چاہتا ہوں۔اور اس