سلسلہ احمدیہ — Page 634
634 عمارت کا سنگ بنیاد رکھا اور واپسی پر جماعت کے ایک اور ہسپتال سویڈ رو کا معائنہ فرمایا۔غانا کے دورے کے آخری روز حضور سالٹ پانڈ تشریف لے گئے۔اگر چہ راستے میں بہت سی بستیوں کے لوگ حضور کے استقبال کے لئے کھڑے تھے۔لیکن جب قافلہ سالٹ پانڈ کے قریب پہنچا تو راستے کے دونوں طرف ہزاروں لوگ حضور کے انتظار میں چشم براہ تھے۔اور جب حضور کا قافلہ ان کے پاس سے گزرتا تو وہ رومال ہلا کر خوشی کا اظہار کرتے اور فلک شگاف نعرے بلند کرتے۔حضور نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا اور غانا کے احمدیوں کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلائی۔اور انہیں اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ وہ اپنی نمازوں میں اپنے ملک کی ترقی کے لئے درد دل سے دعائیں کریں۔سالٹ پانڈ سے واپسی پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اسار چر کے سکول کا معائنہ فرمایا جس کے پرنسپل مکرم صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب تھے۔حضور نے اس سکول کی نوتعمیر شدہ عمارت کی یادگاری سختی کی نقاب کشائی فرمائی اور دعا کرائی۔پھر حضور اکرافو نامی قصبہ تشریف لے گئے یہاں حضور نے حضرت مولانا عبد الرحیم نیر صاحب کے ذریعہ سب سے پہلے احمدیت قبول کرنے والے غانین احمدی الحاجی مہدی آپا کی قبر پر دعا کی۔اور پھر وہاں سے واپس آکر کچھ دیر کے لئے اسار چر میں مکرم صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب کے مکان پر کچھ دیر کے لئے آرام فرمایا اور چائے نوش فرمائی۔اور پھر رات کو واپس اکر ا تشریف لے آئے۔غانا سے واپسی سے قبل حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے صدر غانا کی خواہش پر ان سے دوسری ملاقات فرمائی۔غانا سے دورہ کے بعد حضور دوبارہ لندن تشریف لائے اور وہاں سے کینیڈا کے لئے روانہ ہوئے۔اس دورہ میں پہلا قیام کینیڈا کے شہر ٹورونٹو میں تھا۔جب حضور ٹورونٹو پہنچے تو وہاں پر کینیڈا جماعت کے نیشنل پریذیڈنٹ خلیفہ عبد العزیز صاحب اور مبلغ انچارج مکرم منصور احمد بشیر صاحب اور دیگر احباب جماعت نے حضور کا استقبال کیا۔اگلے روز حضور نے نماز جمعہ پڑھائی اور دینی تربیت کے موضوع پر ایک خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔حضور نے فرمایا مجھے چارسال بعد یہاں آنے کا اتفاق ہوا ہے۔اور جو بات میں نے محسوس کی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں کی جماعت میں اخلاص تو ہے لیکن تربیت کا فقدان ہے۔یہ امر میرے لئے تکلیف کا باعث ہوا ہے۔جب میں ۱۹۷۶ء میں پہلی بار یہاں آیا تھا تو میرا خیال تھا کہ چونکہ آپ کے ہاں کوئی مربی نہیں ہے اس لئے خاطر خواہ تربیت نہیں ہو سکی۔اس کے بعد