سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 614 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 614

614 کو ایک دوسرا آجائے گا پھر تیسرا آ جائے گا۔دروازہ کھل گیا اب آگے ہی آگے چلیں گے۔انشاء اللہ تعالی (1) حضور کے اس اعلان کے بعد مارچ ۱۹۸۰ء میں جب جماعت احمدیہ کی مجلس مشاورت کا اجلاس ہوا تو اس میں ایک سب کمیٹی اس غرض کے لئے قائم کی گئی تھی کہ یہ جائزہ لے کہ جماعت احمدیہ کی نئی نسل میں تعلیم کا معیار کہیں پہلے کی نسبت گر تو نہیں رہا۔اور اگر یہ معیار گر رہا ہے تو اسے بڑھانے کے لئے کیا ذرائع استعمال کئے جاسکتے ہیں۔اس سب کمیٹی نے یہ عملی اقدامات کئے کہ جب تک طلباء اور طالبات کے بارہ میں ہر قسم کے تعلیمی کوائف نہ منگوائے جائیں اس وقت تک اس پر کما حقہ غور نہیں ہو سکتا۔چنانچہ ضروری کوائف کے تعین کے بعد انہیں طبع کروا کر مختلف جماعتوں کو بھجوائے گئے۔اور حضور کی ہدایت کے مطابق تمام امراء شہر ضلع کا ایک اجلاس مرکز میں منعقد کیا گیا تا کہ کوائف جمع کرنے کے طریقہ کار کو واضح کیا جائے اور اس بارے میں ان سے ضروری مشورہ کیا جائے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ارشاد فرمایا تھا کہ مشوروں میں طلباء کو شامل کیوں نہیں کیا جاتا۔چنانچہ خدام الاحمدیہ کے اجتماع کے موقع پر آئے ہوئے کالجوں اور یو نیورسٹی کے طلباء سے بھی مشورے کئے گئے۔ان اقدامات کے نتیجہ میں جو صورت حال سامنے آئی اس کی روشنی میں کمیٹی نے جس کی صدارت حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کر رہے تھے یہ رپورٹ مجلس مشاورت میں پیش کی کہ یہ مفروضه درست نہیں کہ احمدی طلباء اور طالبات کا معیار تعلیم گر رہا ہے۔تاہم تعلیمی معیار کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش جاری رہنی چاہئے۔اور نظارت تعلیم کو چاہئے کہ وہ طلباء کی راہنمائی کے لئے ایک Cell قائم کرے، جس میں مختلف تعلیمی اداروں کے بارے میں معلومات مہیا ہوں۔نظارت تعلیم ، احمد یہ سٹودنٹس ایسوسی ایشن کے تعاون سے ایسی Coaching کلاسز جاری کریں جن میں ہوشیار طلباء کمزور طلباء کی اعانت کریں۔اس کمیٹی نے سفارش پیش کی کہ مختلف شہروں کے طلباء حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر حضور سے ملاقات کا شرف حاصل کرتے ہیں۔اس پروگرام کو وسیع تر کرنا چاہئے تا کہ طلباء حضور سے براہ راست راہنمائی حاصل کریں۔نظارت تعلیم ایسے احمدی صنعت کاروں اور ماہرین فن کے کوائف بھی حاصل کرے جو طلباء کو عملی تجر بہ مہیا کرنے میں کوئی مدد کر سکتے ہوں۔یہ بھی سفارش کی گئی کہ ربوہ کی خلافت لائبریری میں مختلف موضوعات سے تعلق رکھنے والی کتب موجود