سلسلہ احمدیہ — Page 582
582 تھی۔عیدی امین ان میں سے ایک تھے۔یوگینڈا کے آزاد ہونے پر انہوں نے فوج میں ترقی کے زینے طے کرنے شروع کئے۔اور ۱۹۶۴ء میں انہیں یوگینڈا کی آرمی کا ڈپٹی کمانڈر بنادیا گیا۔جب ملک کے وزیر اعظم نے ایک سیاسی بحران میں نیا آئین نافذ کر کے ملک کے صدر کو برطرف کیا تو اس کے ساتھ عیدی امین کو کرنل کے عہدے پر ترقی دے کر آرمی کا کمانڈر بنا دیا گیا۔اس وقت عیدی امین نے صدر کے محل پر حملہ کی قیادت کی۔شروع میں تو وزیر اعظم اوبوٹے (Obote) اور عیدی امین کے تعلقات ٹھیک رہے لیکن پھر دونوں کے درمیان اختلافات رونما ہو گئے اور ۲۵ جنوری ۱۹۷۱ء کوعیدی امین نے وزیر اعظم کا تختہ الٹ دیا اور ملک کا نظم و نسق سنبھال لیا۔عیدی امین نے اقتدار میں آکر اعلان کیا کہ فوجی حکومت صرف نگران حکومت کے طور پر رہے گی اور جلد ملک میں انتخابات کرائے جائیں گے۔لیکن جلد ہی انہوں نے ملک کے صدر کمانڈر انچیف اور ایئر فورس کے چیف آف سٹاف کے عہدے سنبھال لئے۔عدالتی نظام کے اوپر فوجی عدالتیں قائم کر دی گئیں۔وہ کچھ قبائل کو اپنا دشمن سمجھتے تھے۔انہوں نے فوج میں موجود ان قبائل کے افراد کا قتل عام شروع کرا دیا۔چنانچہ ۱۹۷۲ء کے آغاز تک لانگو اور آچولی قبائل کے پانچ ہزار فوجیوں کو بیرکوں میں قتل کرایا جا چکا تھا۔اور پھر یہ سلسلہ بڑھتا رہا۔جس کے متعلق انہیں شبہ ہوتا کہ وہ ان کا مخالف ہے اسے قتل کرا دیا جاتا۔یوگینڈا میں بہت سے ایشین باشندے ایک لمبے عرصہ سے بلکہ کچھ نسلوں سے آباد تھے۔ان میں سے ہزاروں کے پاس وہاں کی شہریت بھی تھی۔ان میں سے بہت سے بڑے بڑے کاروباروں اور صنعتوں کے مالک تھے۔عیدی امین صاحب نے ۱۹۷۲ء میں ان کو ملک بدر کر دیا اور ان کی املاک کو ضبط کر لیا گیا۔اس حکم کی وجہ سے جماعت کے کئی پاکستانی مبلغین کو بھی یوگینڈا سے نکلنا پڑا۔صرف کمپالا کے سکول کے دو اسا تذہ مکرم چوہدری محمود احمد (بیٹی) صاحب اور مکرم منیر احمد منیب صاحب کو سکول میں کام کرنے کی اجازت ملی۔اس کے بعد ملک کی اقتصادی حالت دگر گوں ہو گئی۔عیدی امین صاحب نے تمام مسلمان تنظیموں کو ایک مسلم سپریم کونسل میں ضم کر کے تمام تنظیموں کو اس کے تحت رجسٹر ہونے کی ہدایت دی۔فروری ۱۹۷۴ء میں عیدی امین صاحب نے لاہور میں منعقد ہونے والی اسلامی سربراہی کا نفرنس میں شرکت کی اور ایسے بیانات دیئے کہ شاہ فیصل کو عالم اسلام کا خلیفہ بنالینا چاہئے۔وہ سعودی عرب سے مالی مدد بھی لے رہے تھے۔درمیان میں امداد کا یہ سلسلہ معطل بھی کیا گیا تھا۔اس کا نفرنس میں جو وفد