سلسلہ احمدیہ — Page 581
581 یوگینڈا میں جماعت احمدیہ پر پابندی جیسا کہ پہلے ہم اس بات کا ذکر کر چکے ہیں کہ ۱۹۷۴ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف بنائی جانے والی سازش کا دائرہ صرف پاکستان تک محدود نہیں تھا۔یہ آثار شروع ہی سے ظاہر تھے کہ دوسرے ممالک تک اس فتنہ کو پھیلایا جائے گا۔رابطہ عالم اسلامی کی قرارداد میں واضح طور پر ذکر تھا کہ تمام مسلمان ممالک جماعت احمدیہ پر پابندیاں لگائیں اور احمدیوں کو سرکاری ملازمتوں سے برطرف کیا جائے۔اور جب پاکستان کی قومی اسمبلی نے احمدیوں کے بارے میں آئین میں ترمیم کی تو اس وقت اسلامک سیکریٹریٹ کے سیکریٹری تہامی صاحب نے فوراً یہ بیان دیا تھا کہ دوسرے اسلامی ممالک کو بھی پاکستان کی پیروی کرنی چاہیئے اور یہ کہ اس فیصلہ کی نقول بھجوائی جائیں گی۔آثار صاف ظاہر تھے کہ اب دوسرے ممالک میں بھی اس سازش کا جال پھیلایا جائے گا۔اس غرض کے لئے جس ملک کا انتخاب کیا گیا وہ مشرقی افریقہ کا ملک یوگینڈا تھا۔اس وقت یوگینڈا میں صدر عیدی امین کی حکومت تھی۔مناسب ہوگا کہ اگر ہم اس مرحلہ پر عیدی امین صاحب کا مختصر پس منظر بیان کر دیں۔وہ ۱۹۲۰ء کی دہائی میں پیدا ہوئے۔ان کی پیدائش کے بعد ان کے باپ نے ان کی والدہ اور ان سے اپنے بچوں سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔وہ باقاعدگی سے ابتدائی تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔البتہ ۱۹۴۱ء میں وہ ایک اسلامی مدرسہ میں کچھ دیر داخل رہے اور پھر وہ کچھ چھوٹی موٹی ملازمتیں کرتے رہے۔۱۹۴۶ء میں عیدی امین صاحب برطانوی فوج میں بحیثیت معاون باور چی بھرتی ہوئے۔اور پھر سپاہی کی حیثیت سے خدمات سرنجام دینے لگے۔انہوں نے برطانوی فوج کے لئے کینیا اور صومالیہ میں بھی خدمات سرانجام دیں۔اس وقت کینیا میں آزادی کی تحریک ماؤ اؤ چل رہی تھی۔عیدی امین نے ان کی بغاوت کے خلاف برطانوی فوج میں خدمات سرانجام دیں اور پھر انہیں پہلے کارپورل اور پھر سارجنٹ کے عہدہ پر ترقی دے دی گئی۔۱۹۵۴ء میں انہیں برطانوی فوج میں وارنٹ آفیسر کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ان دنوں میں مشرقی افریقہ میں مقامی افریقن شہری اسی عہدے تک ترقی پاسکتے تھے۔۱۹۶۱ء میں برطانوی فوج میں دو یوگینڈن افراد کو لیفٹینٹ کے عہدے پر ترقی دی گئی