سلسلہ احمدیہ — Page 548
548 لئے نہیں لی جارہی۔یہ صرف بیان ہی نہیں تھا بلکہ آج تک گزشتہ 33 سالوں میں جتنی بھی نیلامی کے اشتہار آئے ہیں ان میں یہ شرط ہوتی ہے کہ صرف مسلمان ہی درخواست دے سکتے ہیں۔-4 یہ بات کہ زمین کا قبضہ حکومت نے لے لیا ہے بھی غلط ہے کیونکہ Petitioner نمبر 2 تا 22 ابھی بھی اپنے پلاٹوں پر قابض ہیں۔( جن پٹہ گیروں کی طرف سے رٹ کی گئی ہے ) حکومت کا کوئی افسر بھی اس قانون کی دفعہ 6 اور 7 میں دیئے ہوئے لوازمات کے بغیر کسی _5 جائیداد پر قبضہ نہیں کرسکتا۔-6 1973 The Aquisition of Land (Housing) Act کے مطابق پلاننگ اور ڈیویلپمنٹ حکومت کی کسی منظور شدہ سکیم کیلئے ہونی چاہیئے لیکن بظاہر اس قانون کے تحت کوئی سکیم ہی بنائی نہیں گئی۔جس کے تحت سارا کام ہو۔-7 ربوہ کی زمین کی موجودہ بازاری مالیت 25 ہزار روپے کنال سے کم نہیں ہے۔اس قانون کی دفعہ 9 کے مطابق زیادہ سے زیادہ جو معاوضہ Acquire کی گئی زمین کا دیا جا سکتا ہے وہ 20 ہزار روپے کنال ہے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقتنہ کا یہ منشاء نہیں ہے کہ غریب لوگوں کے ایسے قیمتی پلاٹ لے کر اپنی مرضی کے لوگوں کو الاٹ کر کے نوازا جائے۔آئین اسمبلی ، حکومت یا اس کے کسی افسر کو لامتناہی اختیارات نہیں دیتا کہ وہ کسی بھی جائیداد کا انتخاب اس جائیداد کی بازاری قیمت سے کم میں کریں۔اس وجہ سے قانون کی دفعہ 11 آئین -9 پاکستان کے خلاف ہے۔ربوہ ٹاؤن سکیم کے تحت بعض لوگ ایسے بھی ہیں جنہوں نے کوئی شہری رہائشی پلاٹ انڈیا میں چھوڑے ہوئے رہائشی پلاٹوں کے بدلہ میں نہیں لیا۔10۔گرین بیلٹ ربوہ کے رہائشیوں کے فائدہ کے لئے رکھی گئی تھیں جو کہ صرف پلاننگ میں درج مقاصد کے لئے ہی استعمال ہو سکتی ہیں۔کوئی پٹہ گیر انجمن کی اجازت کے بغیر کوئی پلاٹ کسی اور کو منتقل نہیں کر سکتا۔اور نہ ہی کوئی پٹہ گیر (Lease Holder) انجمن کے قواعد کے خلاف کوئی تعمیر کر سکتا ہے۔