سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 500 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 500

500 میں محمد حسین بٹالوی صاحب کو فہمائش کی گئی کہ وہ آئندہ تکفیر اور بدزبانی سے باز رہیں۔مقدمہ کے آخر میں عدالت نے فریقین سے ایک تحریر پر دستخط کرائے کہ آئندہ کوئی فریق اپنے مخالف کی نسبت موت وغیرہ کسی دل آزار مضمون کی پیشگوئی نہ کرے۔کوئی کسی کو کافر اور دجال اور مفتری نہ کہے۔بدگوئیوں اور گالیوں سے مجتنب رہیں۔اس اعتراض کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ اس واقعہ سے بہت قبل ۱۸۸۶ء میں ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اس طریق کا اعلان فرما چکے تھے کہ وہ کسی کی موت کی پیشگوئی اس وقت تک شائع نہیں فرماتے تھے جب تک اس شخص کی طرف سے اس بابت اصرار نہ ہو۔اور اس کے ثبوت کے طور پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کے اشتہار کی عبارت پیش فرمائی۔اور اگر آپ نے عدالت میں اس تحریر پر دستخط فرمائے تو یہ آپ کے طریق کے مطابق ہی تھا۔پھر اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض پیشگوئیوں کے متعلق کچھ سوالات اُٹھائے اور حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو دعوت مباہلہ اور عبد اللہ آتھم اور محمدی بیگم کی پیشگوئیوں کے متعلق تفاصیل بیان فرما ئیں۔اس کے بعد بیٹی بختیار صاحب نے تاریخ احمدیت کے متعلق یہ انکشاف فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صاحبزادے حضرت مرزا سلطان احمد صاحب نے احمدیت قبول نہیں کی تھی۔گویا انہیں آپ کی ۱۹۳۰ء میں ہونے والی بیعت کی اطلاع اب تک موصول نہیں ہوئی تھی اور یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کی بیعت کا مسئلہ ختم نبوت سے کیا تعلق تھا ؟ پھر اٹارنی جنرل صاحب نے یہ سوال اُٹھایا کہ احمدیوں نے کہا تھا کہ مذہباً ترکوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں اور اٹارنی جنرل صاحب نے کوئی حوالہ پڑھ کر غلطیوں میں اضافہ کرنے کی کوشش تو نہیں کی البتہ یہ ضرور کہا کہ جہاں تک مجھے یاد ہے کہ یہ کہا گیا تھا کہ ہم ترکی کے سلطان کو مذہباً خلیفہ نہیں مانتے۔اب یہ بات ظاہر ہے کہ پہلی اور دوسری بات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔اور صاف ظاہر ہے احمدی خلافت احمدیہ سے وابستہ ہیں اور وہ ترکی کے سلطان کو خلیفہ کیوں ماننے لگے۔اور تو اور پاکستان میں غیر احمدی مسلمانوں سے پوچھ لیں کہ ان میں سے کتنے ترکی کے سلطان کو خلیفہ راشد سمجھتے ہیں ، ایسا آدمی ڈھونڈے سے بھی نہیں ملے گا۔اور پھر یہ سوال اٹھایا کہ جب پہلی جنگ عظیم کے دوران