سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 490 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 490

490 یعنی قتال کے قائل نہیں ہیں۔انگریز ابھی ہندوستان پر حکمران تھا کہ جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی جاچکی تھی۔اور جماعت اسلامی کا اعلان ہی یہ تھا کہ وہ ملک میں حکومت الہیہ قائم کرنے کے لئے کھڑی ہوئی ہے۔اور جب اسی دور میں ان کے بانی مودودی صاحب نے اپنے لائحہ عمل کا اعلان کیا تو اس کے الفاظ یہ تھے:۔” جماعت کا ابتدائی پروگرام اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ایک طرف اس میں شامل ہونے والے افراد اپنے نفس اور اپنی زندگی کا تزکیہ کریں اور دوسری طرف جماعت سے باہر جولوگ ہوں (خواہ وہ غیر مسلم ہوں یا ایسے مسلمان ہوں جو اپنے دینی فرائض اور دینی نصب العین سے غافل ہیں ) ان کو بالعموم حاکمیت غیر اللہ کا انکار کرنے اور حاکمیت رب العالمین کو تسلیم کرنے کی دعوت دیں۔اس دعوت کی راہ میں جب تک کوئی قوت حائل نہ ہو، ان کو چھیڑ چھاڑ کی ضرورت نہیں۔اور جب کوئی قوت حائل ہو، خواہ کوئی قوت ہو، تو ان کو اس کے علی الرغم اپنے عقیدہ کی تبلیغ کرنی ہوگی۔اور اس تبلیغ میں جو مصائب بھی پیش آئیں ان کا مردانہ وار مقابلہ کرنا ہوگا۔" (مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش حصہ سوئم صفحہ آخر ) پڑھنے والے خود دیکھ سکتے ہیں کہ جب انگریز حکومت ہندوستان میں موجود تھی اس وقت تک جماعت اسلامی کا مسلک یہی تھا کہ اگر تو تبلیغ کی راہ میں کوئی قوت حائل نہیں تو کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ تک نہیں کرنی۔اور اگر قوت حائل بھی ہو تو اس کو تبلیغ کرو اور بس۔یہ واضح طور پر اس بات کی ہدایت ہے کہ تم نے قتال نہیں کرنا۔جب اس موضوع پر بات آگے بڑھی تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ تعلیمات پیش فرمائی ہیں کہ یہ نظریہ جس کا عیسائی مناداس زور وشور سے پر چار کر رہے ہیں کہ اسلام تلوار اور جبر کے زور سے پھیلا ہے سراسر غلط اور خلاف واقعہ ہے۔اور اسلام نے تو ہر طرح کے مظالم کا سامنا کر کے پی تعلیم دی ہے کہ لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ یعنی دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر نہیں ہے۔اور جو لوگ یہ دعوی کرتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے وہ اپنے دعوی میں جھوٹے ہیں۔کیونکہ اسلام کی تاثیرات اپنی اشاعت کے لئے کسی جبر کی محتاج نہیں ہیں۔اور یہ خیال بھی لغو ہے کہ اب ایسا کوئی مہدی یا مسیح آئے گا جوتلوار چلا کر لوگوں کو اسلام کی طرف بلائے گا۔