سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 470 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 470

470 تاریخ کے الفضل میں موجود نہیں۔اور اٹارنی جنرل صاحب جماعت کے وفد سے یہ فرمائش کر رہے ہیں کہ کسی اور الفضل میں سے یہ حوالہ کسی طرح ڈھونڈ کر اسمبلی کی خدمت میں پیش کیا جائے۔جو سوال کر رہا ہے یہ اس کا فرض ہوتا ہے کہ متعلقہ حوالہ نکال کر اپنے سوال میں وزن پیدا کرے نہ کہ اسکا جس پر اعتراض کیا جارہا ہے۔بہر حال حضور نے اس کے جواب میں نرمی سے فرمایا کہ اس ایک حوالہ کے لیے الفضل کی ساری فائل دیکھنا انسان کے لیے ممکن نہیں ہے۔پھر ضمیمہ تحفہ گولڑویہ کی ایک عبارت پیش کی گئی تھی کہ ” دوسرے فرقوں کو جو دعویٰ اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا (۸۸) اور اس پر یہ اعتراض اُٹھانے کی کوشش کی گئی تھی کہ گویا یہ کہا گیا ہے کہ باقی مسلمان فرقوں کو اسلام کی طرف منسوب نہیں ہونا چاہئے۔حضور نے اس حوالہ کا سیاق وسباق پڑھا جس میں بالکل ایک اور مضمون بیان ہو رہا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تکذیب کرتا ہے اور آپ کو کافر کہتا ہے وہ اس قابل نہیں کہ احمدی اس کے پیچھے نماز پڑھیں۔اور اب احمدیوں کا امام احمدیوں میں ہی سے ہونا چاہئے۔یہاں اس بات کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا کہ کسی فرقہ کو اسلام کی طرف منسوب ہونے یا اسلام کا دعوی کرنے کا حق ہے کہ نہیں۔اور اس ساری عبارت پر وہ اعتراض اُٹھ ہی نہیں سکتا جو اُٹھانے کی کوشش کی گئی تھی۔پھر اسی طرح حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصنیف انوار اسلام کی ایک عبارت کا پورا سیاق وسباق پڑھ کر سنایا۔پہلے ایک اجلاس میں اٹارنی جنرل صاحب نے ۱۳ نومبر ۱۹۴۶ء کا ایک حوالہ پڑھ کر سنایا تھا کہ تقسیم ہند سے معاقبل حضرت مصلح موعود نے فرمایا تھا کہ تم ایک پارسی لے آؤ میں اس کے مقابلہ میں دودو احمدی پیش کرتا جاؤں گا۔اور اپنی طرف سے یہ استدلال کرنے کی کوشش کی تھی کہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ احمدی اپنے آپ کو خود مسلمانوں سے علیحدہ مذہب سے وابستہ سمجھتے ہیں اور اشارہ یہ کیا جارہا تھا کہ بالخصوص تقسیم ہند سے قبل کے نازک دور میں جب ہندوستان کے مسلمان پاکستان کے لیے جد و جہد کر رہے تھے اس وقت احمدی اپنے آپ کو مسلمانوں سے علیحدہ گروہ ظاہر کر رہے تھے۔اگر چہ جو عبارت پیش کی جا رہی تھی اس میں صرف یہ ذکر تھا کہ ملک میں احمدیوں کی تعداد پارسیوں سے زیادہ ہے اور اگر پارسیوں کی رائے لی جا رہی ہے تو احمدیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس حوالہ کا سارا سیاق و سباق پڑھ کر سنایا۔یہ حوالہ ۱۹۴۶ء میں حضرت مصلح موعودؓ کے سفرِ