سلسلہ احمدیہ — Page 443
443 دینے کو تیار ہے۔ہمارا اصل کام اشاعت توحید الہی اور احیائے سنن سید المرسلین ہے۔سو ہم بلا روک ٹوک اس ملک میں کرتے ہیں۔پھر ہم سرکار انگریز پر کس سبب سے جہاد کریں اور خلاف اصول مذہب طرفین کا خون بلا سبب گرادیں۔(۷۶) تو سید احمد شہید صاحب کے نزدیک اس دور میں انگریز حکومت کے خلاف جہاد کرنا خلاف اصول مذہب اسلام تھا۔اسی دور میں مولوی اسماعیل شہید صاحب نے سکھوں سے جہاد کرنے کے لیے لوگوں کو ترغیب دی اور لشکر ترتیب دیئے۔انہوں نے یہ واضح اعلان کیا کہ ” جو مسلمان سرکار انگریز کی امان میں رہتے ہیں ہندوستان میں جہاد نہیں کر سکتے۔(۷۷) جب انگریزوں کی حکومت ہندوستان میں مستحکم ہوگئی تو علماء نے اس کی بڑھ چڑھ کر حمایت کی چنانچہ جماعت احمدیہ کے ایک اشد مخالف مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی تحریر کرتے ہیں : ” بناء علیہ اہل اسلام ہندوستان کے لئے گورنمنٹ انگریزی کی مخالفت و بغاوت حرام ہے۔(۷۸) پھر تحریر کرتے ہیں : اس امن و آزادی عام و حسن انتظام برٹش گورنمنٹ کی نظر سے اہلحدیث ہند اس سلطنت کو از بس غنیمت سمجھتے ہیں اور اس سلطنت کی رعایا ہونے کو اسلامی سلطنتوں کی رعایا ہونے سے بہتر جانتے ہیں اور جہاں کہیں وہ رہیں یا جائیں (عرب میں خواہ روم میں خواہ اور کہیں ) کسی اور ریاست کا محکوم ور عایا ہونا نہیں چاہتے۔‘(۷۹) جب ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے سیاسی مفادات کی حفاظت کے لیے مسلم لیگ قائم کی تو اس کے اغراض و مقاصد بھی طے کیے گئے۔ان میں سے پہلا مقصد یہ تھا : To promote among Indian Muslims feelings of loyalty towards the British Government, and to remove any misconception that may arise as to the intentions of the government with regard to any of its measures۔