سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 442 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 442

442 پنجاب میں تو سکھوں کی حکومت میں مسلمانوں پر وہ وحشیانہ مظالم کئے گئے تھے کہ جن کو پڑھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ان کی مذہبی آزادی مکمل طور پر سلب کی جا چکی تھی۔اس دور میں جب کہ ابھی پورے ہندوستان پر انگریزوں کا غلبہ نہیں ہوا تھا ، اس وقت ان علاقوں کے لوگوں کے خیالات کیا تھے جہاں پر ابھی مقامی راجہ مہاراجہ حکومت کر رہے تھے۔اسکے متعلق مسلمانوں کے مشہور لیڈر سرسید احمد خان صاحب لکھتے ہیں۔۔۔۔ہماری گورنمنٹ کی عملداری دفعہ ہندوستان میں نہیں آئی تھی بلکہ رفتہ رفتہ ہوئی تھی جس کی ابتداء ۱۷۵۷ء کے وقت سراج الدولہ کے پلاسی پر شکست کھانے سے شمار ہوتی ہے۔اس زمانے سے چند روز پیشتر تک تمام رعایا اور رئیسوں کے دل ہماری گورنمنٹ کی طرف کھینچتے تھے اور ہماری گورنمنٹ اور اس کے حکام متعہد کے اخلاق اور اوصاف اور رحم اور استحکام عہود اور رعایا پروری اور امن و آسائش سن سن کر جو عملداریاں ہندو اور مسلمانوں کی ہماری گورنمنٹ کے ہمسائے میں تھیں وہ خواہش رکھتی تھیں اس بات کی کہ ہماری گورنمنٹ کے سایہ میں ہوں۔(۷۵) اس زمانہ کے حالات کے گواہ، مسلمانوں کے لیڈر اور عظیم خیر خواہ سرسید احمد خان صاحب لکھ رہے ہیں جب کہ خود ہندوستان کے لوگوں کی ، جن میں مسلمان اور ہندو دونوں شامل تھے یہ خواہش تھی کہ وہ انگریزوں کی حکومت کے تحت آجائیں۔اس دور میں جب کہ پنجاب اور اس کے ساتھ ملحقہ علاقوں میں انگریزوں کی نہیں بلکہ سکھوں کی حکومت قائم تھی۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور حکومت میں تو پھر بھی مسلمانوں کی کچھ اشک شوئی ہوئی ورنہ باقی سکھ فرمانرواؤں کے دور میں مسلمانوں کی مذہبی آزادی کو اس بری طرح پامال کیا گیا کہ بعض مسلمان قائدین نے ان کے خلاف اعلانِ جہاد کر دیا۔جن میں ایک نمایاں نام سید احمد شہید صاحب اور مولوی اسماعیل شہید کا ہے۔سید احمد شہید کا فتویٰ تھا: سرکار انگریز گومنکر اسلام ہے مگر مسلمانوں پر کچھ ظلم اور تعدی نہیں کرتی اور نہ ان کو فرض مذہبی اور عبادت لازمی سے روکتی ہے۔ہم ان کے ملک میں اعلانیہ وعظ کہتے اور ترویج کرتے ہیں وہ کبھی مانع اور مزاحم نہیں ہوتی۔بلکہ اگر ہم پر کوئی زیادتی کرتا ہے تو اس کو سزا