سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 433 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 433

433 حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی اپنی تصنیف قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین میں درود شریف کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں وَ قَدْ قَضَيْتَ اَنْ لَّا شَرُعَ بَعْدِى فَصَلَّ عَلَيَّ وَعَلَى آلِى بِأَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ مَرْتَبَةَ نَبوَّةٍ عِندَكَ وَ اِنْ لَّمْ يَشْرَعُوا فَكَانَ مِنْ كَمَالِ رَسُولِ اللَّهِ اللهِ أَنْ الْحَقَ آلَهُ بِالْأَنْبِيَاءِ فِي الْمَرْتَبَةِ “ ترجمہ: اور یقیناً تو نے فیصلہ کر دیا ہے کہ میرے بعد شریعت نہیں ہوگی۔پس تو مجھ پر اور میری آل پر سلام بھیج ان معنوں میں کہ اپنے حضور انہیں نبوت کا مرتبہ عطا کر۔اگر چہ الله وہ شریعت لانے والے نہ ہوں۔پس یہ رسول اللہ ﷺ کا کمال ہے کہ آپ نے اپنی آل کو نبیوں کے ساتھ ملا دیا۔قرة العينين فى تفضيل الشيخين مصنفه حضرت شاه ولی الله دهلوى ، المكتبة السلفيه - شيش محل روڈ لاهور ص ۳۲۰) اب دیکھتے ہیں کہ حدیث نبوی لا نبی بعدی کی تشریح میں علماء سلف کیا فرماتے رہے ہیں۔مشہور عالم ملاعلی قاری تحریر فرماتے ہیں : دد بعض علماء آنحضرت ﷺ کے قول لا نبی بعدی کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ جب عیسی ابن مریم نازل ہوں گے تو وہ اس امت کے حکام میں سے ایک ہوں گے۔اور وہ شریعت محمدیہ کی طرف بلائیں گے۔اور کوئی اور نبی نازل نہیں ہو گا۔میں کہتا ہوں کہ یہ اس بات کی نفی نہیں ہے کہ کوئی نبی پیدا ہو جائے اور وہ آنحضرت ﷺ کی پیروی کرنے والا ہو۔آپکی شریعت کے احکام کے بیان میں اگر چہ اس کی طرف وحی بھی ہوتی ہو جس طرح رسول کریم ﷺ کے اس قول میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو انہیں میری پیروی کے علاوہ چارہ نہ ہوتا۔آنحضرت ﷺ کی مراد اس سے یہ ہے کہ اگر وہ نبوت اور رسالت کے وصف کے ساتھ بھی آئیں تو انہیں میری پیروی کرنی ہوگی۔(من مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح للعلامة الفاضل والفهامة الكامل المرحوم برحمة ربه الباري على بن سلطان محمد القارى الجزء الخامس ص ۵۶۴)