سلسلہ احمدیہ — Page 432
432 رنگ اختیار کرتی۔لیکن جیسا کہ ہم جائزہ لیں گے کہ ایک بار پھر اٹارنی جنرل صاحب اصل موضوع سے کترا کے نکل گئے۔اور ایک بار پھر یہ واضح ہور ہا تھا کہ ارباب حل و عقد کا یہ ارادہ ہی نہیں کہ وہ اس بحث کو اپنے اصل موضوع پر آنے دیں۔یہاں پر ایک سوال لا زما پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ اس موضوع سے کترا کیوں رہے تھے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت سے قبل تیرہ سو سال تک امت محمدیہ کے کتنے ہی بزرگ گزرے ہیں جو اس عقیدہ کا برملا اظہار کرتے رہے کہ خاتم النبین کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی امتی نبی بھی نہیں آسکتا۔آنحضرت کے بعد شرعی نبی کوئی نہیں آسکتا لیکن آپ کی غلامی میں اور آپ کی اطاعت کا جوا اُٹھا کر امتی نبی ضرور آ سکتا ہے۔ہم اس کی صرف چند مثالیں یہاں پر پیش کرتے ہیں۔سب سے بڑھ کر یہ کہ صحیح مسلم میں کتاب الفتن کی ایک ہی حدیث میں رسول کریم ﷺ نے آنے والے مسیح کو چار مرتبہ نبی اللہ کا نام دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ نبی دجال کے فتنہ کا سد باب کرے گا۔اس حدیث کے راوی حضرت نواس بن سمعان ہیں۔اس کے علاوہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں گا۔قولوا خاتم النبيين ، ولا تقولوا لا نبي بعده “ یعنی ( آپ ﷺ کو خاتم النبیین تو کہو لیکن یہ نہ کہو کہ آپ کے بعد کوئی نبی نہیں ہو ( الدر المنثور فی التفسير الماثور، مصنفہ جلال الدین السیوطی ، الجزء الخامس، دار الکتب العلمیہ۔بیروت ص ۳۸۶) حضرت مغیرہ بن شعبہ کے سامنے ایک آدمی نے یوں درود پڑھاصلى الله على مـحـمـد خاتم الانبياء لا نبی بعدہ یعنی اللہ محمد ﷺ خاتم الانبیاء پر سلامتی نازل کرے۔آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔اس پر حضرت مغیرہ بن شعبہ نے فرمایا جب تو نے خاتم الانبیاء کہا تھا تو یہ تیرے لئے کافی تھا۔ہم یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسی ظہور فرمائیں گے جب آپ ظہور فرمائیں گے تو وہ پہلے بھی ہوں گے اور بعد بھی ہوں گے۔(الدر المنثور في التفسير الماثور ، مصنفه جلال الدين السيوطي ،الجزء الخامس، دار الكتب العلميه - بيروت ص ٣٨٦)