سلسلہ احمدیہ — Page 420
420 السلام نے رشید احمد گنگوہی کو شیطان گمراہ اور ملعون لکھا ہے۔ابھی اس کا جواب نہیں آیا تھا کہ سپیکر صاحب نے کہا کہ میں یہ تجویز دوں گا کہ اٹارنی جنرل صاحب ایک وقت میں ایک سوال کریں۔لیکن وہ ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ سب ایک ہی طرح کے سوالات ہیں اور ایک اور سوال کیا کہ بانی نے سعد اللہ لدھیانوی کے بارے میں یہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔اس کے جواب میں حضور نے فرمایا کہ ہم یہ حوالہ جات چیک کر کے جواب دیں گے۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے کچھ اور حوالہ جات پڑھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریروں میں مخالفین کے متعلق سخت الفاظ استعمال کیے ہیں۔اس کے جواب میں بھی حضور نے فرمایا کہ یہ سب حوالہ جات نوٹ کر دئیے جائیں ان کے جوابات اکٹھے دیئے جائیں گے۔اس اعتراض کو پر کھتے ہوئے اس امر کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ جن لوگوں کا نام لے کر یہ اعتراض کیا جارہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے متعلق سخت الفاظ استعمال کیے ہیں، خود ان مخالفین نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق کیا الفاظ استعمال کئے تھے۔پیر مہر علی شاہ گولڑوی کی مثال لے لیں۔انہوں نے اپنی کتاب چشتیائی میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق لکھا تھا الغرض اکثر الہامات ان کے تو کاذب ہونے کی وجہ سے انکو مفتری علی اللہ قرار دیتے ہیں اور بعض الہامات گو کہ فی نفسها صحت رکھتے ہیں مثل آیت قرآنیہ ملہمہ کی مگر ان سے الٹا نتیجہ نکالنے کے باعث سے ان پر پوری جہالت کا دھبہ لگاتے ہیں اور معہد اتلبیس ابلیس ہونے میں بھی کوئی شک نہیں رہتا۔پھر وہ اسی کتاب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات کے متعلق لکھتے ہیں کہ یہ تین اقسام کے ہیں ' (۱) الہامات کا ذبہ جن کے کاذب ہونے پر وہ خود ہی گواہ ہیں (۲) الہامات کا ذبہ جن کو بوجہ نہ پورا نکلنے انکے کا ذب سمجھا گیا ہے (۳) الہامات صیاد یہ جن کا ابن صیاد کے الہام کی طرح اگر سر ہے تو پاؤں نہیں اگر پاؤں ہیں تو سر نہیں۔۔۔۔(۴) الہامات شیطانیہ انسیہ جن کو کسی آدمی پڑھے ہوئے نے اس کے قلب میں ڈالدیا ہے (۵) الہامت شیطانیہ جنیہ (۶) الہامات شیطانیہ معنویہ۔۔“ اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق یہ بدزبانی کی ” قادیانی صاحب نے اس مقام پر بڑی چالا کی اور دجل سے کام لیا۔(۶۸) اور پھر پیر گولڑوی صاحب نے اپنی کتاب چشتیائی میں یہ فارسی شعر درج کیا