سلسلہ احمدیہ — Page 419
419 نے حضور سے کہا تھا کہ اگر وہ کسی سوال کا جواب دینے کے لیے وقت لینا چاہیں تو کمیٹی سے اس کا وقت لے سکتے ہیں۔اس پر سپیکر صاحب نے سومرو صاحب کو یاد دلایا کہ سوال سوال میں فرق ہوتا ہے۔بعض سوالات کے جواب میں وضاحتیں ہوتی ہیں اور بعض سوالات کا جواب تحقیق کے بعد دینا ہوتا ہے۔ویسے یہ کوئی ایسا دقیق نکتہ نہیں تھا کہ اس کو دریافت کرنے کے لیے سومر وصاحب کو سپیکر صاحب کی مدد کی ضرورت ہوتی۔یہ بات کا رروائی کے سرسری مطالعہ ہی سے نظر آ جاتی ہے کہ دس میں سے آٹھ سوالات کا جواب تو صرف ایک دومنٹ میں نہایت اختصار سے دیا گیا تھا اور شاید ہی اب تک کی کارروائی میں کسی سوال کا جواب دس منٹ کا ہو۔پھر عبد العزیز بھٹی صاحب نے کہا کہ جہاں جواب Irrelevant ہو وہاں سپیکر صاحب اپنا اختیار استعمال کر کے اس کو بند کریں۔مولوی ظفر انصاری صاحب نے اصرار کیا کہ انہیں لکھی ہوئی چیز پڑھنے کا زیادہ موقع نہ دیا جائے۔احمد رضا قصوری صاحب نے یہ انکشاف کیا کہ گواہ بعض جوابات کو بار باردہرا رہا ہے اور بعض کتابوں کے حوالے بھی بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔ہم یہاں اس لیے نہیں بیٹھے کہ ہمیں بتایا جائے کہ احمد یہ عقائد کیا ہیں اور نہ ہی وہ ہمیں تبلیغ کر رہے ہیں۔اب یہ اعتراض معقولیت سے قطعاً عاری تھا کیونکہ حقیقت یہ نہیں تھی کہ کچھ جوابات دہرائے جارہے تھے بلکہ حقیقت یہ تھی کہ اٹارنی جنرل صاحب بعض سوالات کو بار بار دہرا ر ہے تھے اور ظاہر ہے کہ جب کوئی سوال دہرایا جائے گا تو جواب دینے والے کو جواب بھی دہرانا پڑے گا۔یہ حقیقت اتنی واضح تھی کہ خود وفاقی وزیر عبد الحفیظ پیرزادہ صاحب کو بھی اس کی نشاندہی کرنی پڑی کہ اٹارنی جنرل صاحب کو بعض سوالات اس لیے دہرانے پڑتے ہیں تا کہ جوابات میں تضاد پیدا ہو۔اس کے بعد جماعت احمدیہ کا وفد داخل ہوا۔اب جو کارروائی شروع ہوئی تو جوابات میں تو کیا تضاد پیدا ہونا تھا ، خدا جانے کیا ہوا کہ اٹارنی جنرل صاحب نے جلد جلد کچھ بے ربط سوالات کرنے شروع کیے۔پہلے انہوں نے ایک حوالہ پڑھ کر یہ سوال اُٹھایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں میں حضرت مریم کا کیا مقام بیان ہوا ہے ابھی اس پر تین چارمنٹ ہی گزرے ہوں گے اور ابھی اس مسئلہ پر بات صحیح سے شروع بھی نہیں ہوئی تھی کہ انہوں نے اچانک یہ سوال اُٹھا دیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو ملعون لکھا ہے۔ابھی لائبریرین کو حوالہ پکڑانے کا کہا ہی تھا کہ انہوں نے کہا کہ میں دو چارا کٹھے پڑھ دیتا ہوں اور فورا ہی اس مسئلہ پر آگئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ