سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 408 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 408

408 فرمالیں کہ انہوں نے جو یہاں کتابیں رکھی ہوئی ہیں یہ وہ ہیں جور بوہ کی چھپی ہوئی ہیں اور ان پر نشان لگا ہوا ہے۔جن کتابوں میں سے حوالے دیئے گئے ہیں وہ ان کی اپنی ذاتی ہیں۔“ اب یہ عجیب وضاحت تھی۔سوال کرنے والے جن کتابوں سے حوالے پیش کر رہے تھے وہ انہوں نے خود تو شائع نہیں کی تھیں۔وہ بھی تو جماعت کی شائع کی ہوئی تھیں۔اور وہ ان کو بھی کارروائی کے دوران پیش کر سکتے تھے۔اب سپیکر صاحب نے جواب دیا The books are available for last two days وو یعنی دو دن سے یہ کتابیں یہاں پر دستیاب ہیں۔اور ظاہر ہے کہ جب دو دن سے یہ کتب وہاں پر موجود تھیں۔جس کتاب کی جس جگہ سے حوالہ پیش کرنا مقصود تھا اس پر نشان لگا کر پیش کرنا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔اس پر نورانی صاحب فرمانے لگے ” چھاپے خانے کا فرق ہوتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ اگر ایک ایڈیشن کا حوالہ دیا جائے گا اور دوسرے ایڈیشن کی کتاب ڈھونڈ کر اس صفحہ پر حوالہ ڈھونڈا جائے گا تو اس خفت کو تو بھگتنا پڑے گا۔اس لئے حوالہ دیتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ حوالہ کس ایڈیشن سے نوٹ کیا گیا ہے اور سامنے کون سا ایڈیشن پڑھا ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا حوالہ دیتے ہوئے تو یہ مشکل ہوتی ہی نہیں چاہئے تھی کیونکہ جب روحانی خزائن کے نام سے کتب کا مجموعہ شائع ہوا تو اس میں پہلے ایڈیشن کے صفحات بھی ایک طرف لکھے ہوئے ہوتے تھے۔لیکن حقیقت یہ تھی کہ یہ مختلف ایڈیشن کا معاملہ نہیں تھا حوالے ویسے ہی غلط پیش کئے جارہے تھے۔اور یہ سمجھ میں نہیں آتی کہ اتنے غلط حوالے پیش کرنے کی نوبت کیسے آئی۔سپیکر صاحب کی جھنجلا ہٹ جاری تھی وہ کہنے لگے You should check it up یعنی آپ کو چاہئے کہ اسے چیک کریں۔اس مرحلہ پر سپیکر نے اعلان کیا کہ اب تک کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ہم چھ بجے دوبارہ کارروائی شروع کریں گے۔جب حضور انور اراکین وفد کے ہمراہ ہال سے تشریف لے گئے تو سپیکر نے اراکین اسمبلی کو رکنے کا کہا۔اور ایک بار پھر حوالہ جات کو نہ ملنے کے مسئلہ پر بات شروع کی۔ابھی