سلسلہ احمدیہ — Page 407
407 صاحب سے اس بابت بات کر سکتے ہیں۔اٹارنی جنرل صاحب بھی اس جواب سے کچھ خوش معلوم نہیں ہوتے تھے انہوں نے کہا کہ ” قاعدہ یہ ہے کہ ایک گواہ زبانی گواہی دیتا ہے وہ کسی سوال کے جواب میں پہلے سے تیار شدہ تحریر نہیں پڑھ سکتا۔“ اب یہ ایک عجیب اعتراض تھا کہ وہ نامکمل حوالے پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تحریرات میں نعوذ باللہ حضرت حسین کی توہین کی ہے۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے حضرت امام حسین کی شان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا حوالہ پڑھنا شروع کیا تو یہ عجیب نکتہ اٹھایا گیا کہ گواہ تحریر نہیں پڑھ سکتا۔اب اس موضوع پر جب بحث ہو رہی ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اس ضمن میں حوالہ نہیں پڑھا جاسکتا تو اور کیا کیا جاسکتا ہے۔اس پر حضرت خلیفۃ اصبح الثالث نے فرمایا I can quote the quotation یعنی کہ میں ایک تحریر کا حوالہ پڑھ سکتا ہوں۔بہر کیف اس مرحلہ پر سپیکر صاحب نے مداخلت کی اور کہا کہ آپ کسی تحریر سے اپنی یاداشت کو تازہ کر سکتے ہیں۔پھر جا کر یہ حوالہ مکمل پڑھا گیا۔اب یہ ایک عجیب اعتراض تھا جو ایک ایسے ممبر کی طرف سے کیا گیا تھا جو خود وکیل تھا۔یہ ٹھیک ہے کہ عدالت میں ایک گواہ ایک تیار شدہ Statement نہیں پڑھ سکتا لیکن یہ ایک حوالہ تھا۔جب جماعت کی طرف ایک غلط بات منسوب کی جارہی تھی اور اس الزام کی تائید میں نامکمل یا غلط حوالے پڑھے جا رہے تھے تو جماعت احمدیہ کا وفدا اپنے صحیح عقائد کو ظاہر کرنے کے لیے متعلقہ حوالہ کیوں نہیں پڑھ سکتا ؟ اس روز کی کارروائی کی دو اہم باتیں قابل ذکر ہیں۔شام کو ایک بار پھر سوالات اٹھانے والی ٹیم کو ان حوالہ جات کو پیش کرنے میں دشواری پیش آنے لگی جن کو وہ خود بطور دلیل پیش کر رہے تھے۔وہ جو حوالہ جات تیار کر کے آئے تھے وہ وقت پر مل نہیں رہے تھے۔سپیکر صاحب نے ایک مرتبہ پھر ہدایت دی کہ جو حوالہ اٹارنی جنرل صاحب پڑھ رہے ہوں اس کے متعلقہ صفحہ پر متعلقہ عبارت کو Underline کر کے ان کے آگے رکھا جائے۔اغلباً خفت کو کم کرنے کے لیے شاہ احمد نورانی صاحب نے یہ مہمل سی وضاحت پیش کی :۔” میرے خیال میں تھوڑی سی Misunderstanding ہوئی ہے۔آپ اس پر غور