سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 391 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 391

391 اور کبھی ۲۹ جنوری کا۔اس کا ذکر تو بعد میں آئے گا لیکن ریکارڈ کی خاطر یہاں یہ بتاتے چلیں کہ اس روز کی الفضل کی اشاعت میں یہ یا اس سے ملتی جلتی کوئی عبارت موجود نہیں۔یہ سوال کر نیوالوں کی ذہنی اختراع تھی۔اٹارنی جنرل صاحب نے ایک سوال یہ اٹھایا کہ صفحہ ۳۴۴ پر آئینہ کمالات اسلام ہے تو اس میں ہے کہ جو شخص نبوت کا دعوی کرے گا۔وہ ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا احترام کرے۔نیز یہ بھی کہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوئی ہے وہ ایک امت بنائے جو اس کو نبی مجھتی ہو اور اس کی کتاب کو کتاب الہی جانتی ہو۔“ ابھی انہوں نے یہ حوالہ پڑھنا ہی شروع کیا تھا اور جو شخص کے الفاظ ہی پڑھے تھے کہ حضور نے یہ اہم سوال اُٹھایا کہ اس کی ضمیر کس طرف جاتی ہے۔اشارہ واضح تھا لیکن آفرین ہے کہ سنے والوں کو سمجھ نہیں آیا۔یہ حوالہ پڑھنے کے بعد پاکستان کی قابل اسمبلی میں نہایت قابل اٹارنی جنرل صاحب نے یہ اہم سوال اُٹھایا کہ تو یہ Reference آنحضرت کی طرف ہے یا ان کے اپنے سے مراد ہے؟ اب ہم پورا حوالہ پیش کرتے ہیں : اور یہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ دجال اول نبوت کا دعوی کر دیگا پھر خدائی کا۔اگر اس کے یہ معنی لئے جائیں کہ چند روز نبوت کا دعوی کر کے پھر خدا بنے کا دعوی کر دیگا تو یہ معنی صریح باطل ہیں کیونکہ جو شخص نبوت کا دعوی کر یگا اس دعویٰ میں ضرور ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ہستی کا اقرار کرے اور نیز یہ بھی کہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر وحی نازل ہوتی ہے۔اور نیز خلق اللہ کو وہ کلام سناوے جو اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور ایک امت بناوے جو اس کو نبی سمجھتی اور اس کی کتاب کو کتاب اللہ جانتی ہے۔اب سمجھنا چاہئے کہ ایسا دعوی کر نیوالا اسی امت کے رو برو خدائی کا دعویٰ کیونکر کر سکتا ہے کیونکہ وہ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ تو بڑا مفتری ہے پہلے تو خدائے تعالیٰ کا اقرار کرتا تھا اور خدا تعالیٰ کا کلام ہم کو سناتا تھا