سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 390 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 390

390 سے علیحدہ کیا ہے۔جب رابطہ کی قرارداد کی بات شروع ہوئی تو حضور نے انہیں یاد دلایا کہ اس قرار داد میں تو یہ لکھا ہے کہ قادیانی سارے مسلمانوں والے کام کرتے ہیں۔اور ساتھ یہ کہا گیا کہ اندر سے کافر ہیں۔اس مرحلہ پر اٹارنی جنرل نے زچ آ کر کہا کہ ” میں Reasoning میں نہیں جا رہا۔اس پر حضور نے فرمایا، ” تو میں Reasoning کے بغیر بات نہیں کر رہا۔اب کون سا ہوشمند ہو گا جو کہ یہ کہے گا کہ جب اس قسم کی کارروائی جاری ہو تو Reasoning میں نہیں جانا چاہئے۔ظاہر ہے جماعتِ احمدیہ پر اعتراضات کئے جا رہے تھے اور مختلف علمی بحثیں اُٹھانے کی کوشش کی جا رہی تھی ، یہ بات تو Reasoning کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔اگر اٹارنی جنرل صاحب اور ممبرانِ اسمبلی Reasoning میں نہیں جانا چاہتے تھے تو پھر یہ کارروائی نہیں محض ڈرامہ کیا جارہا تھا۔لیکن بعد کی کارروائی سے یہی واضح ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب یا یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ سوالات کرنے والی ٹیم Reasoning کا طریقہ کار نہیں اپنانا چاہتی تھی۔اس سے پہلے بھی یہ ذکر آپکا ہے کہ خود اسپیکر سمبلی نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ جو حوالہ جات پیش کیے جاتے ہیں، ان کو ڈھونڈنے میں آدھا آدھا گھنٹہ لگ جاتا ہے۔لیکن اب بھی یہی حال تھا کہ یا تو حوالے صحیح پیش ہی نہیں ہوتے تھے یا جب ان پر بات شروع ہوتی تو یہ صاف نظر آ جاتا کہ یا تو اس حوالہ کا سیاق و سباق بھی پڑھنے کی کوشش نہیں کی گئی یا پھر اس سوال کو اُٹھانے والوں میں یہ مضمون سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں پائی جاتی تھی۔چند مثالیں پیش ہیں۔بحث کے دوران اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا کہ الفضل ۲۶ رجنوری ۱۹۱۵ء کا حوالہ ہے مرزا بشیر الدین محمود کا ہے " مسیح موعود کو احمد نبی اللہ تسلیم نہ کرنا۔آپ کو امتی قرار دینا۔امتی سمجھنا۔گویا آنحضرت ﷺ سید المرسلین خاتم النبیین ہیں کو امتی قرار دینا امتوں میں داخل کرنا کفر عظیم ہے۔کفر در کفر۔اس حوالہ کو پڑھتے یا یوں کہنا چاہئے کہ ایجاد کرتے ہوئے اٹارنی جنرل صاحب کو یہ بھی خیال نہیں آیا کہ ساری عبارت مہمل ہے اس کا مطلب ہی کچھ نہیں بنتا۔بہر حال اس کے جواب میں حضور نے اس بات کی نشاندہی فرمائی کہ یہ فقرہ تو بظاہر ٹوٹا پھوٹا لگتا ہے۔لیکن یحییٰ بختیار صاحب پھر بھی نہیں سمجھ پائے اور کہا کہ میں پھر پڑھ دیتا ہوں۔اس پر حضور نے ارشاد فرمایا کہ میں چیک کروں گا۔یہ بھی ظاہر ہوتا ہے وہ کہ اس حوالہ کے متعلق کچھ گومگو کی کیفیت میں رہے۔کبھی یہ حوالہ ۲۶ تاریخ کا بن جاتا