سلسلہ احمدیہ — Page 376
376 غیر مسلم بلکہ مرتد ہیں۔ان سے سلام بھی نہیں کیا جاسکتا۔اگر ان سے شادی کر کے اولا د ہوتو وہ ولد الزنا ہوگی۔تو ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔جب یہ راگ الاپا گیا کہ احمدی غیر احمدی بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھتے تو انہیں یاد دلایا گیا کہ انہی دنوں میں احمدیوں کو شہید کیا جا رہا ہے ، ان کی قبریں اکھیڑی جا رہی ہیں ، ان کی تدفین میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں، ان کے مکانات اور دوکانیں اور فیکٹریاں نذر آتش کی جارہی ہیں، آخر یہ تو بتائیں کہ ان کے خلاف آواز کس نے اُٹھائی اور آخر کیوں نہیں اُٹھائی؟ حکومت نے تو ان کے دفاع کے لیے کچھ نہیں کیا بلکہ بہت سے مقامات پر قانون نافذ کرنے والے ادارے مفسدین کی اعانت کر رہے تھے اور احمدیوں کو ہی گرفتار کر رہے تھے۔کیا حکومت کا فرض نہیں تھا کہ ان مظالم کو رو کے یا کم از کم ان کے خلاف آواز ہی اُٹھائے۔لیکن اٹارنی جنرل صاحب کے پاس اتنے سادہ سوال کا جواب بھی نہیں تھا۔اور جواب دیا بھی تو کیا کہ نہیں بالکل ٹھیک ہے اور بس۔یہ ذکر دلچسپی کا باعث ہوگا کہ جب اٹارنی جنرل صاحب نے علماء کے یہ فتاویٰ سنے جن میں نہ صرف ایک دوسرے کو مرتد اور کافر ٹھہرایا گیا تھا بلکہ اس امر کی بھی سختی سے وضاحت کی گئی تھی کہ ان لوگوں سے سلام کرنا بھی ممنوع ہے اور اگر آدمی ان کے کفر پر شک بھی کرے تو خود کا فر ہو جاتا ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ اٹارنی جنرل صاحب کی قوت استدلال رخصت ہوگئی کیونکہ ان علماء کے دفاع میں انہوں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں کہ کسی ایک نے فتوے دیے الیکشن کے زور میں۔یا کسی ایک نے "Who take it seriously اس غیر مربوط وضاحت سے یہ لگتا ہے کہ ان کا خیال تھا کہ یہ فتوے صرف الیکشن کے دوران دیئے گئے تھے۔حالانکہ اس قسم کے فتاویٰ کا سلسلہ اس وقت سے شروع ہو جاتا ہے جب ابھی الیکشنوں کا نام ونشان بھی نہیں تھا۔جب حضور نے اس بات کی نشاندہی فرمائی تو اٹارنی جنرل صاحب نے فرمایا ” میں تو مثال دے رہا ہوں۔“ پہلے یہ طے ہو چکا تھا کہ جو بھی سوال کرنے ہوں وہ یا تو پہلے اٹارنی جنرل یا سوالات کیلئے بنائی گئی کمیٹی کے سپرد کئے جائیں گے یا پھر دوران کا رروائی کا غذ پر لکھ کر اٹارنی جنرل صاحب کے حوالہ