سلسلہ احمدیہ — Page 350
350 ہیں اور اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔اگر پانچ آدمیوں پر بھی ظلم کیا جائے تو وہ بھی اتنا ہی برا ہوگا۔اس کے بعد اٹارنی جنرل صاحب نے اپنی گفتگو کا رخ ایک اور طرف پھیرا۔اگر چہ بظاہر ابھی یہ فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ احمدیوں کو آئین میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے بلکہ ابھی بحث اپنے اصل موضوع پر بھی نہیں آئی تھی۔لیکن بیٹی بختیار صاحب نے یہ ثابت کرنے کی کوشش شروع کر دی کہ اگر احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے تو اس سے ان کے حقوق پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔اول تو یہ بات ہی لا یعنی تھی کہ ایک فرقہ اپنے آپ کو ایک مذہب کی طرف منسوب کرتا ہے اور ایک سیاسی سمبلی یہ فیصلہ کردیتی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے آپ کو اس مذہب کی طرف منسوب نہیں کر سکتا۔اور اس کے ساتھ آپ کے آئین میں یہ بھی لکھا ہے کہ ہر شخص اپنے مذہب کو Profess کرسکتا ہے۔اور پھر یہ بھی اصرار کیا جا رہا ہے کہ اس سے آپ کا کوئی حق متاثر بھی نہیں ہوگا۔لیکن اس کے بعد انہوں نے جو تفصیلی دلائل بیان کئے وقت نے ان دلائل کو غلط ثابت کیا۔ان کا کہنا تھا کہ غیر مسلم قرار دینے کے بعد احمدیوں کے حقوق محفوظ ہو جائیں گے اور میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اگر آپ کو غیر مسلم نہ قرار دیا گیا تو آپ کے حقوق محفوظ رہتے ہیں کہ نہیں۔ایک ملک کی پارلیمنٹ میں اٹارنی جنرل کے منہ سے یہ جملہ اس ملک کے آئین کی ہی تو ہین تھی یعنی اگر کوئی فرقہ اپنے عقیدہ کے مطابق ایک مذہب کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے تو پارلیمنٹ میں اٹارنی جنرل صاحب فرمارہے تھے کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ان کے حقوق محفوظ رہیں گے کہ نہیں۔اگر ایسا ہی ہے تو پھر ملک میں آئین اور قانون کا فائدہ ہی کیا ہے۔پھر اس آئین میں مذہبی آزادی بلکہ کسی قسم کی آزادی کا ذکر ہی فضول ہے۔یہ عجیب نا معقولیت تھی کہ ایک ملک کا اٹارنی جنرل ملک کی قانون ساز اسمبلی میں یہ کہ رہا ہے کہ اگر آپ نے نمیر کے مطابق اپنے مذہب کا اعلان کیا تو آپ کے حقوق کی کوئی ضمانت حکومت نہیں دے سکتی لیکن اگر آپ نے جھوٹ بولا اور اپنے ضمیر کے خلاف کسی اور نام سے اپنے مذہب کو منسوب کیا تو پھر ہم آپ کے حقوق کی حفاظت کریں گے۔پھر اس کے بعد انہوں نے تسلی دلائی کہ غیر مسلم قرار دئیے جانے کے بعد بھی آپ اپنے مذہب کو profess, practice اور propagate کر سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جب بھی ایک ملک یا ایک معاشرے میں مذہبی تنگ نظری کا سفر شروع ہو جائے تو یہ معاشرہ گرتے گرتے ایک مقام پر رکتا