سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 338 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 338

338 قومی اسمبلی کی خاص کمیٹی میں کارروائی جیسا کہ پہلے ذکر آپکا ہے کہ راہبر کمیٹی کے بعد یہ معاملہ قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی میں پیش ہونا تھا اور اس کمیٹی کی صورت ی تھی کہ پوری قومی اسمبلی کو ہی سپیشل کمیٹی میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔اور یہ فیصلہ ہوا تھا کہ جماعت مبایعین اور غیر مبایعین دونوں کے وفود اس کمیٹی میں آئیں اور ان پر سوالات کیسے جائیں۔صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے لکھا گیا کہ ہم اس بات میں آزاد ہیں جن ممبران پر مشتمل وفد چاہیں مقرر کر میں کہ وہ اس کمیٹی میں اپنا موقف بیان کرے لیکن حکومت کی طرف اصرار تھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الثالث لازماً اس وفد میں شامل ہوں۔اس صورت حال میں پانچ اراکین پر مشتمل وفد تشکیل دیا گیا جس میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے علاوہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب، حضرت شیخ محمد احمد صاحب مظہر ، حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب، حضرت مولانا دوست محمد شاہد صاحب شامل تھے۔اس اہم کاروائی کے لیے حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے سب سے زیادہ دعاؤں سے ہی تیاری کی تھی۔خلافت لائبریری سے کچھ کتب منگوائی گئیں اور حضرت قاضی محمد یوسف صاحب مرحوم کے کتب خانہ کی کتب بھی منگوائی گئیں۔لیکن حضرت خلیفتہ اسیح الثالث کی ہدایت تھی کہ حضور کی اجازت کے بغیر یہ کتب کسی کو نہ دی جائیں۔وفد کے بقیہ اراکین میٹنگ کر کے اس مقصد کے لیے بڑی محنت سے تیاری کر رہے تھے اور جو اعتراضات عموماً کیے جاتے ہیں ، ان کے جوابات بھی تیار کیے گئے۔چند میٹنگز میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث بھی شامل ہوئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس بات کا اظہار بار ہا فرمایا کہاس کا روائی کے دوران نہ صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بتایا گیا تھا کہ کیا اور کس طرح جواب دینا ہے بلکہ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ کب اس کا جواب دینا ہے؟ حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے جب کارروائی میں شرکت کے لیے اسلام آباد جانا ہوتا تو حالات کے پیش نظر اس کا اعلان نہیں کیا جاتا تھا اور جس روز جانا ہوتا اس روز صبح کے وقت حضور ارشاد فرماتے اور پھر قافلہ روانہ ہوتا۔اسلام آباد میں حضور کا قیام ونگ کمانڈ رشفیق صاحب کے مکان میں ہوتا تھا۔اس کا رروائی کے آغاز سے قبل حضور کو اس کے بارے میں تشویش تھی۔اس فکرمندی کی حالت