سلسلہ احمدیہ — Page 331
331 تھا۔۔۔۔۔۔۔۔جس قد رطلباء زخمی ہوئے ہیں ان کی حالت دیکھی نہیں جاتی۔(۴۱) نوائے وقت نے ۳۰ مئی ۱۹۷۴ ء کی اشاعت میں خبر شائع کی تھی کہ ۳۰ طلباء شدید زخمی ہوئے ہیں۔اسی اخبار نے یکم جون کو یہ خبر شائع کی تھی کہ ۱۲ طلباء شدید زخمی ہوئے ہیں۔اخبار مشرق نے ۳۰ رمئی ۱۹۷۴ء کوخبر شائع کی تھی کہ ۴ طلباء کی حالت نازک ہے۔اور امروز نے ۳۰ مئی لکھا تھا کہ ۲ کی حالت نازک ہے۔ان خبروں کا آپس میں فرق ظاہر کر رہا ہے کہ بغیر مناسب تحقیق کے خبریں شائع کی جارہی تھیں۔اور جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ نشتر میڈیکل کالج کے ان طلباء نے لائلپور میں اپنا علاج کرانا پسند نہیں کیا تھا اور کہا تھا کہ ہم ملتان جا کر اپنے تدریسی ہسپتال میں علاج کرائیں گے۔حالانکہ اگر ان طلباء کی حالت اتنی ہی نازک تھی تو یہ خو دطب کے پیشہ سے منسلک تھے اور جانتے تھے کہ علاج میں تاخیر کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔بہر حال ملتان میں ان کے تدریسی ہسپتال جا کر علاج شروع ہوا۔اور جو ڈاکٹر ان کے علاج میں شریک تھے انہوں نے ٹریبیونل کے سامنے ان زخمی طلباء کے زخموں کے متعلق گواہیاں دیں۔ان ڈاکٹروں کے نام ڈاکٹر محمد زبیر اور ڈاکٹر محمد اقبال تھے۔ان میں سے کچھ طلباء یقیناً زخمی تھے اور ان میں سے کچھ کو داخل بھی کیا گیا تھا۔لیکن زخموں کی نوعیت کتنی شدید تھی اس کا اندازہ ان ڈاکٹروں کی گواہی سے ہونے والے ان انکشافات سے بخوبی ہو جاتا ہے۔ڈاکٹر محمد زبیر صاحب نے گواہی دی ۱) ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کو جب زخمی طلباء کو ہسپتال لایا گیا تو ان کو ایمر جنسی کی بجائے براہِ راست وارڈ میں لے جایا گیا۔میں نے ان کا معائنہ کیا اور ان میں سے ایک طالب علم آفتاب احمد کو کسی حد تک Serious کہا جاسکتا ہے۔میں ان کی حالت کے متعلق یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس کے سر پر ضرب لگی تھی اور وہ اس وقت بے ہوش تھا۔اور باقی مضروب پوری طرح ہوش میں تھے۔باقی آٹھ طلباء کی حالت کو Grievious نہیں کہا جاسکتا۔۲ اس ایک Serious طالب علم آفتاب احمد صاحب کو بھی ۷ روز کے بعد ۸ /جون کو ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ان کا سر کا ایکسرے کیا گیا تھا اور وہ بھی ٹھیک نکلا تھا اور کوئی