سلسلہ احمدیہ — Page 329
329 زور لگا رہے تھے تا کہ اس طرح احمدیوں پر دباؤ ڈال کر انہیں عقائد کی تبدیلی پر مجبور کیا جاسکے۔بہت سے شہروں میں غنڈے مقرر کیے گئے تھے کہ وہ احمدیوں کو روز مرہ کی اشیاء بھی نہ خریدنے دیں اور جہاں کوئی احمدی باہر نظر آئے تو تو اس کے ساتھ توہین آمیز رویہ روا رکھا جاتا۔کئی مقامات پر احمد یوں کا منہ کالا کر کے انہیں سڑکوں پر پھرایا گیا اور یہ پولیس کے سامنے ہوا اور پولیس تماشہ دیکھتی رہی۔احمدیوں کی دوکانوں کے باہر بھی غنڈے مقرر کر دیئے جاتے جولوگوں کو احمدیوں کی دوکانوں سے خریداری کرنے سے روکتے۔سرگودھا، دیپالپور اور بھیرہ میں احمدیوں کے مکانوں کے اردگرد محاصرہ کی صورت پیدا ہوگئی۔اور ۱۳ جولائی کو تخت ہزارہ میں احمدیوں کے بارہ مکانوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔بائیکاٹ کی صورت کو شدید تر بنانے کے لیے یہ بھی کیا گیا کہ بھنگیوں کو مجبور کیا گیا کہ وہ احمد یوں کے مکانات کی صفائی نہ کریں اور بعض مقامات پر ڈاکٹروں نے احمدی مریضوں کا علاج کرنے سے بھی انکار کر دیا۔لائلپور اور بوریوالہ میں بعض صنعتوں کے مالکان نے احمدیوں کو ملازمت سے فارغ کر دیا۔ڈسکہ میں احمدیوں کے کارخانے کے ملازمین کو وہاں پر کام کرنے سے روک دیا گیا، جس کے نتیجے میں یہ کارخانہ بند کرنا پڑا۔دیہات میں احمدیوں کی زندگی کو اجیرن کرنے کے لیے یہ بھی کیا گیا کہ احمدیوں کو کنویں سے پانی نہیں لینے دیا جاتا اور چکی والوں کو مجبور کیا گیا کہ احمدیوں کو آٹا پیس کر نہ دیا جائے۔احمدیوں کو تکلیف دینے کے لیے ان کی مساجد میں غلاظت پھینکی جاتی۔اور پاکپتن میں جماعت کی مسجد پر قبضہ کر لیا گیا۔ان کی سنگدلی سے مردہ بھی محفوظ نہیں تھے۔جولائی کو خوشاب میں ایک احمدی کی قبر کھود کر نعش کی بے حرمتی کی گئی اور کوٹلی اور گوجرانوالہ میں احمدیوں کی تدفین روک دی گئی۔لائلپور میں اب مخالفین علی الاعلان یہ کہتے پھرتے تھے کہ پندرہ جولائی کے بعد ربوہ کے علاوہ کہیں پر احمدی نظر نہ آئے۔نصیرہ ضلع گجرات میں یہ اعلان کیے گئے جو احمدی اپنے عقائد کو نہیں چھوڑے گا اس کے گھروں کو جلا دیا جائے گا۔۲ / جولائی کو ایک احمدی سیٹھی مقبول احمد صاحب کو ان کے مکان پر گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔لاہور کی انجینیئر نگ یو نیورسٹی میں احمدی طالب علم امتحان دینے گئے تو ان کے کمرہ کے اندر پٹرول چھڑک کر آگ لگادی گئی۔انہیں اپنی جانیں بچا کر وہاں سے نکلنا پڑا۔(۳۸) کراچی میں جماعت اسلامی کے بعض لوگوں نے کچھ اور مولویوں کے ساتھ مل کر ایک سازش تیار کی کہ کسی طرح لوگوں کے جذبات کو احمدیوں کے خلاف بھڑ کا یا جائے۔انہوں نے دستگیر کالونی