سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 304 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 304

304 شروع کر دیا ہے اور یہ کہ قادیانیوں کے ریسٹورانٹ پر گاہکوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔اس مرحلہ پر پاکستان کے کچھ سیاسی لیڈر دوسرے ممالک کے سربراہان سے بھی اپیلیں کر رہے تھے کہ وہ قادیانیت کو کچلنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں۔چنانچہ جماعت اسلامی کے امیر طفیل محمد صاحب نے سعودی عرب کے شاہ فیصل کو ایک تار کے ذریعہ اپیل کی کہ پاکستان میں جو فتنہ قادیانیت نے سراٹھا رکھا ہے، اس کو کچلنے کے لیے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے وہ اپنا اثر ورسوخ استعمال کریں۔انہوں نے مزید لکھا کہ جس طرح رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا اسی طرح پاکستان میں بھی ہونا چاہئے اور لکھا کہ میں حرمین شریفین کے خادم ہونے کے ناطے سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ اس مسئلہ میں اپنا اثر و رسوخ اور دوسرے ذرائع استعمال کریں۔(۲۶) یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب بھی جماعت احمدیہ کے خلاف ایسی شورش بر پا کی گئی تو اس کے بہت سے کرتا دھرتا افراد کی پرورش بیرونی ہاتھ کرتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں دوسرے ممالک کو اس ملک کے داخلی معاملات میں دخل دینے کا موقع مل جاتا ہے اور پھر یہ منحوس چکر چلتا رہتا ہے اور اس ملک کی پالیسیوں کی باگ ڈور بیرونی عناصر کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے۔اور بعد میں پاکستان میں جو حالات رونما ہوئے وہ اس بات کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔خادم حرمین شریفین یا کسی اور بیرونی سر براہ مملکت کا یہ کام نہیں کہ پاکستان یا کسی اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے۔لیکن یہ حکومت وقت کا کام بھی ہے کہ وہ اس چیز کا نوٹس لے اور یہ نوبت نہ آنے دے کہ کسی بیرونی ہاتھ کو ملک میں مداخلت کا موقع ملے۔جب ہم نے ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے یہ سوال کیا کہ کیا میاں طفیل محمد کا یہ بیان غیر ملکی سربراہ کو ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی دعوت دینے کے مترادف نہیں ہے۔تو اس موقع پر جو سوال جواب ہوئے وہ یہ تھے۔ڈاکٹر مبشر حسن صاحب ممکن ہے کہ انہوں نے وہ ان کے کہنے پر ہی کیا ہو کہ تم یہ demand کرو۔سلطان : کس کے کہنے پر ڈاکٹر مبشر حسن صاحب : باہر والوں کے سلطان : شاہ فیصل کے کہنے پر