سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 296 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 296

296 پاکستانی قوم ختم نبوت پر ایمان لاتی ہے اور یہ کہ ہمارے نبی کے بعد اب کوئی اور نبی نہیں ہوسکتا۔اور پھر وز یر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں عدالتی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کرنا چاہئے۔(۱۵) اس روز جب قومی اسمبلی میں کوئی شخص یہ کہنے کو تیار نہیں تھا کہ گوجرانوالہ میں اتنے احمدی شہید کر دیئے گئے ہیں۔پاکستان میں کتنے ہی مقامات پر احمدیوں کو ہر طرح کے مظالم کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ملک کے وزیر اعظم بھی اگر کوئی بات کر رہے تھے تو بہت عمومی انداز میں کہ ہمیں ایک دوسرے سے لڑنا نہیں چاہئے ، ملک میں پہلے ہی بہت سے مسائل ہیں اور جو پورے ملک میں احمدیوں پر جو مظالم ہو رہے تھے ان پر وہ کھل کر کچھ نہیں کہہ رہے تھے۔آج ملک کے سب سے بالا منتخب اداروں میں بھی کوئی احمدیوں پر ہونے والے مظالم پر ایک لفظ کہنے کو تیار نہیں تھا کیونکہ یہ سب سمجھ رہے تھے کہ یہ تو ایک لا چار اور کمزور سا گروہ ہے اس کے متعلق آواز بلند کر کے ہم اپنا سیاسی مستقبل کیوں خطرہ میں ڈالیں۔لیکن ملک کی تاریخ کے سب سے مضبوط وزیر اعظم کو اندازہ نہیں تھا کہ آج کی بحث میں ان کے منہ سے ایک ایسا جملہ نکل گیا ہے جو کچھ برس بعد ان کے خلاف قتل کے مقدمہ میں دلیل کے طور پر پیش کیا جائے گا۔بھٹو صاحب نے احمد رضا قصوری صاحب کو کہا تھا کہ میں تمہارا Nuisance برداشت نہیں کر سکتا۔کچھ سال بعد جب بھٹو صاحب پر یہ مقدمہ چل رہا تھا کہ انہوں نے احمد رضا قصوری صاحب پر قاتلانہ حملہ کرایا، جس میں ان کے والد قتل ہو گئے تو یہی جملہ ان کے خلاف دلیل کے طور پر پیش کیا گیا کہ انہوں نے قومی اسمبلی میں اس بات کا اظہار کیا تھا کہ وہ اب قصوری صاحب کو برداشت نہیں کر سکتے۔چنانچہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ بھٹو صاحب احمد رضا صاحب کو راستہ سے ہٹانا چاہتے تھے۔(۱۲) اگلے روز بھی قومی اسمبلی میں اس موضوع پر مختصر سی گفتگو ہوئی۔اور مفتی محمود صاحب نے سٹیشن والے واقعہ کے متعلق کہا: ”۔۔۔آج میں نے اخبار میں پڑھا ہے کہ مرزا ناصر کو بھی تحقیقات میں شامل کر لیا گیا ہے۔ہم یہ جانتے ہیں کہ ربوہ میں کوئی واقعہ ان کی مرضی کے بغیر نہیں ہوسکتا۔لہذا اسکو گرفتار کر لیا جائے۔(۱۷) اس روز قومی اسمبلی میں ربوہ کے سٹیشن پر ہونے والے واقعہ کے بارے میں سات تحاریک التوا