سلسلہ احمدیہ — Page 295
295 دوسرے مواقع پر حکومت کے مقابل پر زک اُٹھانی پڑی ہے۔پھر انہوں نے کہا کہ آئین کی منظوری اپوزیشن ممبران نے بھی دی تھی اور اس کے آرٹیکل ۱۰۶ (۱۳) میں اقلیت کی وضاحت کی گئی ہے۔۱۹۷۳ء کا آئین جو بھٹو صاحب کی حکومت کا ایک کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔اور جس پر اکثر اپوزیشن کے اراکین نے بھی دستخط کیے تھے۔اس کے آرٹیکل ۱۰۶ (۱۳) میں صوبائی اسمبلی میں مذہبی اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستوں کا ذکر ہے۔اور ان مذہبی اقلیتوں کے نام بھی لکھے ہیں۔اور آئین میں یہ اقلیتیں عیسائی، ہندو، سکھ، بدھ اور پارسی لکھی گئی ہیں۔بھٹو صاحب یہ نکتہ بیان کر رہے تھے کہ جب آئین منظور ہوا تھا تو اپوزیشن کے اکثر علماء، جن میں مفتی محمود صاحب بھی شامل تھے اس پر دستخط کیے تھے بلکہ اس کی منظوری پر مفتی صاحب نے ہی دعا کرائی تھی۔اس آئین کو بنانے کے لیے اسمبلی نے جو کمیٹی تشکیل دی تھی، مفتی محمود صاحب اس کے ممبر بھی تھے اور اس وقت انہوں نے مختلف نکات اٹھائے تھے لیکن یہ نکتہ نہیں اٹھایا تھا کہ احمدی غیر مسلم اقلیت ہیں ان کا نام بھی آئین کی اس شق میں غیر مسلم اقلیتوں میں درج ہونا چاہئے۔اس مرحلہ پر یہ کاروائی ایک گرا ہوا انداز اختیار کر گئی۔اس مرحلہ پر رکن اسمبلی احمد رضا قصوری نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ نو اراکین نے آئین پر دستخط نہیں کیے تھے۔( دراصل تین اراکین نے اس آئین کی منظوری کے وقت ووٹ نہیں دیا تھا۔یہ تین اراکین شاہ احمد نورانی صاحب ، محمود علی قصوری صاحب اور احمد رضا قصوری صاحب تھے ) (۱۴)۔اس پر وز یر اعظم غصہ میں آگئے اور کہا You keep quiet۔I have had enough of you۔absolute poison۔I will not tolerate your nuisance ترجمہ : خاموش رہو۔میں تمہیں کافی برداشت کر چکا ہوں۔مکمل زہر۔میں تمہاری بد تمیزی برداشت نہیں کروں گا۔اس پر تلخی بڑھی اور احمد رضا قصوری صاحب نے وزیر اعظم کو بند رکہا۔پھر پیکر نے مداخلت کی اور وزیر اعظم نے پھر تقریر شروع کی۔اس کے بعد وزیر اعظم نے تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم نے آئین میں صدر اور وزیر اعظم کے حلف میں ختم نبوت کے عقیدہ کا حلف داخل کیا ہے اور کہا کہ اس طرح ہم نے واضح کیا ہے کہ