سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 276 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 276

276 ہیں۔ان کو کہیں اپنے مخالف کے خلاف اس قسم کا غصہ نہ آئے جس کی اجازت ہمیں ہمارے رب نے نہیں دی۔خدا تعالیٰ نے کہا ہے میری خاطر تم ظلم سہو میں آسمانی فرشتوں کو بھیجوں گا تا کہ تمہاری حفاظت کریں۔اب ظاہر ہے اور موٹی عقل کا آدمی بھی یہ جانتا ہے کہ اگر کسی فرد پر کوئی دوسرا فر دحملہ آور ہو اور جس پر حملہ کیا گیا ہے اس کو اپنے دفاع کے لیے ان دو چار ہتھیاروں میں سے جو میسر ہیں کسی ایک ہتھیار کے منتخب کرنے کا موقع ہو تو عقل کہتی ہے کہ اس کے نزدیک جو سب سے زیادہ مضبوط اور موثر ہتھیار ہو گا وہ اسے منتخب کرے گا تو اگر ہماری عقل یہ کہتی ہے کہ ایک مومن کی عقل کو یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ اگر دنیا کے سارے دلائل بھی ہمارے پاس ہوں اور ان کے ساتھ ہم اپنے مخالف کا مقابلہ کریں تو ہماری اس تدبیر میں وہ قوت اور طاقت نہیں جو ان فرشتوں کی تدبیر میں ہے جنہیں اللہ تعالیٰ آسمان سے بھیجے اور کہے کہ میرے بندوں کی حفاظت کرو اور اس کی خاطر مخالفین سے لڑو۔پس جب یہ بات ہے تو ہماری عقل کہتی ہے کہ ہمیں کمزور ہتھیار سے اپنے مخالف کا مقابلہ نہیں کرنا چاہئے۔جب ہمیں ایک مضبوط ہتھیار بھی میسر آ سکتا ہے اور آ رہا ہے تو ہمارے خدا نے ہمیں یہ کہا کہ تمہارا کام ہے دعائیں کرنا اور میرا کام ہے تم سے قربانیاں لینا تاکہ تم میرے فضلوں کے زیادہ سے زیادہ وارث بن جاؤ اور تمہاری اجتماعی زندگی کی حفاظت کرنا۔خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے اور اس کے بعد ہمیں اپنے غصے نہیں نکالنے چاہئیں۔تمہارا کام ہے دعائیں کرو گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو جہاں کہیں تمہیں کوئی تکلیف دینے والا ہے وہاں خود سوچو کہ کوئی ایسی صورت نہیں ہوسکتی کہ ہم اس کی کسی تکلیف کو دور کر کے اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو ماننے والے ہوں۔(۱) ۲۹ مئی کا واقعہ جب خلیفہ وقت کسی بھی معاملہ میں کوئی ہدایت فرما ئیں تو بیعت کرنے والوں کا کام ہے کہ اس ارشاد کو غور سے سن کر اس پر بڑی احتیاط سے عمل کریں۔اگر پوری جماعت میں سے ایک گروہ بھی خواہ