سلسلہ احمدیہ — Page 253
253 کا قالب اختیار کرسکتی ہے جو اسلامیانِ عالم کی بھلائی کی ہو۔“ (المنبر ۲۹ مارچ ۱۹۷۴ ، صفحہ آخر ) اس رطب و یابس سے ظاہر ہے کہ جو بھی ہاتھ شاہ فیصل کو عالم اسلام کا خلیفہ بنانے کے لئے زور لگا رہے تھے انہیں ابھی اس میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی تھی۔اور وہ اس مقصد کے لئے ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے جماعت احمدیہ کے خلاف لوگوں کے ذہن میں زہر گھول رہے تھے تا کہ اس نفرت کو آڑ بنا کر اپنے مقاصد حاصل کئے جاسکیں۔اور لوگوں کو یہ باور کرایا جا سکے کہ اگر عالم اسلام ایک خلیفہ کے ہاتھ پر جمع نہیں ہو پارہا تو یقیناً یہ قادیانیوں کی سازش ہے۔یہ ایک دو جریدوں سے چند مثالیں دی گئی ہیں۔جن کو پڑھنے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ اس سازش کا رخ کس طرف تھا اور اس کے پیچھے کیا مقاصد تھے۔ہم نے اس اہم مرحلہ کے بارے میں دوسری طرف کا نقطہ نظر معلوم کرنے کی کوشش بھی کی۔چنانچہ جب اس امر کا ذکر ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے انٹرویو کے دوران کیا اور ان سے سوال پوچھا کہ یہ کس طرح ہوا کہ اسلامی سربراہی کا نفرنس کے موقع پر جماعت احمدیہ کے خلاف پراپیگنڈا کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میرا نہیں خیال کہ یہ عزیز احمد یا ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے یہ جان کر کیا گیا تھا۔میرا خیال ہے کہ وہ اسے روک نہیں سکتے تھے۔چونکہ بھٹو صاحب پاکستان کی تاریخ کے ایک مضبوط وزیر اعظم سمجھے جاتے ہیں اس لئے ہمارے لئے یہ بات تعجب انگیز تھی۔چنانچہ ہم نے پھر ان سے یہ سوال کیا ? They were helpless ( وہ مجبور تھے؟)۔اس پر مبشر حسن صاحب نے پھر واضح طور پر کہا دو۔Yes, They were helpless ہاں وہ مجبور تھے )۔اس پر میں نے دریافت کیا کہ وہ کون سے ہاتھ تھے؟ اس پر ان کا جواب تھا وہ خفیہ ہاتھ جن کا پتہ ہی نہیں چلتا۔گورنمنٹ کو پتہ ہی نہیں چلا۔“ اور پھر انہوں نے اس بات کا اعادہ ان الفاظ میں کیا P۔M۔knew he was helpless ( وزیر اعظم کو پتہ تھا کہ وہ مجبور ہے )۔