سلسلہ احمدیہ — Page 223
223 جائیں اور پھر جب ہم یہ صدی ختم کریں اور صد سالہ جشن منائیں تو اس وقت دنیا کے حالات ایسے ہوں جیسا کہ ہماری خواہش ہے کہ ایک صدی گزرنے کے بعد ہونے چاہئیں اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء ہے کہ یہ جماعت اس کے حضور قربانیاں پیش کر کے غلبہ اسلام کے ایسے سامان پیدا کردے۔‘(۳) حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے صد سالہ جشن کی روح بیان کرتے ہوئے فرمایا: پس حمد اور عزم یہ دو لفظ ہیں جن کا انتہائی مظاہرہ انشاء اللہ تعالیٰ ۱۹۸۹ء میں ہماری طرف سے کیا جائے گا وبالله توفیق اور اس حمد اور عزم کے عظیم مظاہرے کے لئے قرآن کریم کی عین ہدایت کے مطابق ہم نے تیاری کرنی ہے،اشاعت اسلام کے پروگرام بنانے ہیں، خدا کی راہ میں قربانیاں دینی ہیں نئی نئی سکیمیں سوچنی ہیں۔(۴) اس تحریک کی روح بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ ” میری طبیعت کا میلان سو سالہ جشن منانے کی طرف اتنا نہیں جتنا و دسری صدی کے استقبال کی طرف میرا میلان ہے۔“ اس کے بعد حضور نے تفصیل سے ظہور مہدی کی عظمت بیان فرمائی اور اسلام کی تبلیغ کی روح ان الفاظ میں بیان فرمائی: جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں ہندوستان میں پادریوں نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ ہندوستان میں دیکھنے کو کوئی مسلمان باقی نہیں رہے گا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ افریقہ ہماری جھولی میں پڑا ہے۔پھر انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مسلمان ممالک کو ہم فتح کرتے ہوئے خداوند یسوع مسیح کا جھنڈا خانہ کعبہ پر لہرائیں گے۔یہ وہ اعلانات تھے جو اس زمانے میں عیسائی پادریوں کی طرف سے کئے گئے تھے۔اور اس زمانہ میں کوئی عالم کوئی پڑھا لکھا ان کے مقابلہ میں آواز اٹھانے والا تاریخ انسانی نے کوئی نہ دیکھ پایا۔پھر اس وقت خدا تعالیٰ سے پیار کرنے والا اور حضرت نبی اکرم ﷺ کی محبت میں مست ایک انسان پیدا ہوا۔اور اس کا نام مسیح (علیہ السلام ) بھی رکھا گیا اور اس کا نام منصور بھی رکھا گیا اور اس کا نام محمد بھی رکھا گیا اور اس کا نام احمد بھی رکھا گیا اور اس کا نام محمود بھی رکھا گیا اور اس کا نام مہدی بھی رکھا گیا۔اور وہ مسیح اور مہدی خدا تعالیٰ کی طرف سے نوع انسانی کی بھلائی کے لئے اور قرآنِ کریم کی عظمت کو دنیا میں قائم رکھنے کے لئے کھڑا ہوا اور اس نے ساری دنیا کی