سلسلہ احمدیہ — Page 203
203 میں قادیانیت کی تبلیغ ممنوع ہوگی۔یہ قرارداد اسمبلی کے رکن میجر محمد ایوب نے پیش کی تھی۔قرار داد کی ایک شق ایوان نے ہفتہ کے روز بحث کے بعد ایک ترمیم کے ذریعہ خارج کردی جس میں کہا گیا تھا کہ ریاست میں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع قرار دے دیا جائے۔میجر ایوب نے قرار داد پیش کرتے ہوئے آئین پاکستان میں مندرج صدر مملکت اور وزیر اعظم کا حلف نامہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ آئین میں ان عہدیداروں کے لئے مسلمان ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے اور اس کے مطابق یہ حلف نامہ تجویز کیا گیا ہے جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ حلف اُٹھانے والا یہ اقرار کرتا ہے کہ اس کا ایمان ہے کہ محمد مصطفے ﷺ اللہ تعالی کے نبی ہیں اور ان کے بعد کوئی نبی ہے ( سہو کتابت معلوم ہوتی ہے۔اصل میں کوئی نبی نہیں ہے کہ الفاظ کہے گئے ہوں گے ) میجر ایوب نے کہا کہ اصولی طور پر آئین کی اس دستاویز کی رو سے وہ لوگ خود بخود غیر مسلم ہو گئے جو رسول اکرم ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتے اور چونکہ آزاد کشمیر اسمبلی اس سے قبل یہ قرارداد منظور کر چکی ہے اور اس کی روشنی میں قانون سازی بھی کی گئی ہے کہ ریاست میں اسلامی قوانین نافذ کئے جائیں گے اس لئے لازم ہے کہ اس معاملہ میں شریعت کے مطابق واضح احکامات جاری کئے جائیں۔ایوان کے ایک رکن نے قرارداد کی تائید کرتے ہوئے پاکستان کی بعض عدالتوں کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا جن میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔(۱) گو کہ یہ قرار داد حکومت سے سفارش کے طور پر تھی اور قانون سازی نہیں تھی لیکن یہ بہر حال واضح نظر آ رہا تھا کہ جماعت کے مخالفین کے عزائم کیا ہیں۔وہ چاہتے تھے کہ احمدیوں کو آئینی طور پر ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔اور جیسا کہ ہم ۱۹۵۳ء کے حالات بیان کرتے ہوئے مخالفین جماعت کا بیان نقل کر چکے ہیں کہ انہیں یہ امید تھی کہ اگر احمدیوں کو قانونی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا جائے تو یہ چیز کم از کم پاکستان میں احمدیت کو ختم کرنے کے لئے کافی ہوگی۔پہلے اس قدم کی تمہید کے طور پر آئین میں صدر اور وزیر اعظم کے لئے ختم نبوت کا حلف اُٹھانا ضروری قرار دیا گیا۔اور پاکستان کے آئین میں ان حلف ناموں کو بنیاد بنا کر آزاد کشمیر کی اسمبلی میں سفارش کے طور پر یہ قرارداد منظور کرائی گئی تا کہ اسے بنیاد بنا کر پاکستان میں بھی اس قسم کا قانون بنانے کی کوششیں کی جاسکیں۔لیکن