سلسلہ احمدیہ — Page 194
194 کابینہ کے ایک اہم رکن تھے، اس بات کی بابت استفسار کیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہ تو مشکل ہے کہ بھٹو صاحب نے مصطفے صادق صاحب سے رابطہ کیا ہو کیونکہ وہ انہیں اس قابلیت کا آدمی نہیں سمجھتے تھے لیکن یہ عین ممکن ہے کہ مودودی صاحب سے رابطہ کیا گیا ہو اور کھر صاحب کو کہا گیا ہو کہ ان سے رابطہ کریں۔لیکن اس کے ساتھ ڈاکٹر مبشر حسن صاحب کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت بھٹو صاحب کو احمد یوں سے کوئی خطرہ نہیں تھا۔جب ہم نے مذکورہ بالا واقعہ کے بارے میں پروفیسر غفور صاحب سے استفسار کیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کے علم میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔اور عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب نے بھی اس بابت سوال پر یہی کہا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں ہے۔( نوٹ : اس کتاب کے بعض حصوں کے لئے ہم نے اس وقت کی بعض اہم سیاسی شخصیات سے انٹرویو لئے۔ان میں مکرم ڈاکٹر مبشر حسن صاحب، جو بھٹو صاحب کی کابینہ میں وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل رہے، مکرم عبدالحفیظ صاحب پیرزادہ جو بھٹو صاحب کی کابینہ میں وزیر رہے اور ۱۹۷۴ ء کے وقت وزیر قانون تھے، مکرم صاحبزادہ فاروق علی خان صاحب جو کہ ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی کے سپیکر تھے، مکرم پروفیسر غفور احمد صاحب جو کہ قومی اسمبلی کے ممبر اور جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل تھے ، سابق جج پنجاب ہائی کورٹ مکرم جسٹس صمدانی صاحب جنہیں ۱۹۷۴ء میں انکوائری ٹریبونل میں مقرر کیا گیا تھا اور مکرم ٹی ایچ ہاشمی صاحب جو کہ پاکستان کے سیکریٹری اوقاف تھے اور ۱۹۷۴ء میں رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں حکومت پاکستان کے نمایندے کی حیثیت سے شامل ہوئے تھے اور مکرم معراج محمد خان صاحب جو کہ ایک زمانے میں بھٹو صاحب کے خاص رفیق اور ان کی کابینہ میں بھی رہے، شامل ہیں۔ان انٹرویوز کا تحریری اور آڈیو یا ویڈیو ریکارڈ خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ ہے۔سوائے مکرم عبدالحفیظ پیرزادہ صاحب کے انٹرویو کے جنہوں نے اگلے روز ریکارڈ کروانے کا فرمایا اور پھر معذرت کر لی۔اکثر انٹرویوز لینے والی ٹیم میں خاکسار کے علاوہ م مظفر احمد صاحب ڈوگر مربی سلسلہ اور مرزا عدیل احمد صاحب شامل تھے ) کمیٹی نے کام شروع کیا اور لمبی بحث و تمحیث کے بعد ۱۲ را پریل ۱۹۷۳ء کو قومی اسمبلی نے نئے آئین کی منظوری دے دی۔بھٹو صاحب کے دور میں وفاقی وزیر اور ان کے قریبی معتمد مکرم رفیع رضا صاحب اپنی کتاب میں تحریر کرتے ہیں کہ آئین کی منظوری سے چند روز قبل تک اپوزیشن راہنماؤں