سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 193 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 193

193 جمعیت العلماء پاکستان کے شاہ احمد نورانی صاحب اس کے ممبر تھے۔ان کے علاوہ میاں ممتاز دولتانہ صاحب اور سردار شوکت حیات صاحب بھی اس کے ممبر تھے۔دولتانہ صاحب کس طرح جماعتِ احمدیہ کی مخالفت کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے رہے تھے ۱۹۵۳ء کے فسادات کے بیان میں اس کا ذکر تفصیل سے آچکا ہے۔اور جب حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب وفاقی کابینہ میں وزیر خارجہ تھے ، اس وقت سردار شوکت حیات صاحب بھی دولتانہ صاحب کے ساتھ مل کر مرکزی حکومت پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو اس عہدے سے ہٹا دیا جائے۔بعد میں سامنے آنے والے شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مرحلہ پر جب کہ یہ کمیٹی آئین کی تشکیل کا کام کر رہی تھی ان دنوں میں بھٹو صاحب اپنے سیاسی مخالفین جماعت اسلامی کے ساتھ گفت و شنید کر رہے تھے۔واللہ اعلم کہاں تک یہ بات درست ہے لیکن صحافی مصطفے صادق جو روز نامہ وفاق کے ایڈیٹر بھی رہے ہیں، کے مطابق پہلے پنجاب کے گورنر غلام مصطفے کھر نے ان کے سامنے اس بات کا اظہار کیا کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے اندراشترا کی اور قادیانی خطرہ بنے ہوئے ہیں اور ان سے انہیں خطرہ ہے اور یہ کہ قادیانی ان کے لئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔یہ بات تو خلاف عقل ہے کہ امن پسند احمدیوں سے کسی کو خطرہ تھا۔حقیقت یہ تھی کہ اپنی سیاسی ساکھ بڑھانے اور قائم رکھنے کے لئے اور اپنے سیاسی دشمنوں کو رام کرنے کے لئے احمدیوں کے جائز حقوق غصب کرنے کی تمہید باندھی جا رہی تھی۔اس کے مطابق مصطفے صادق صاحب کے ہی مطابق بھٹو صاحب اور مودودی صاحب کی ملاقات ہوئی۔اس میں بھٹو صاحب نے مودودی صاحب سے تعاون کی اپیل کی اور یہ اپیل بھی کی کہ مودودی صاحب قادیانیوں اور کمیونسٹوں کی سرگرمیوں بلکہ بقول ان کے سازشوں کے بارے میں ذکر ہوا تو بھٹو صاحب نے ان سے کہا کہ وہ اس معاملے میں ان سے تعاون کریں۔پھر اس ملاقات کے بعد بھٹو صاحب اور مودودی صاحب مطمئن نظر آتے تھے اور کھر صاحب بھی بہت مسرور تھے کہ جس سیاسی بحران نے ان کی نیندیں حرام کر رکھی تھیں اس کا حل اب نکل آئے گا۔تو اس طرح ایک بار پھر سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے جماعت احمدیہ پر مظالم کا سلسلہ شروع کیا جارہا تھا (۳) یہ بیان تو مصطفے صادق صاحب کا ہے۔جب ہم نے ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے جو کہ بھٹو صاحب کی