سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 174 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 174

174 حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کے اس نتیجہ میں اسی بات کا ذکر کیا گیا ہے جس کا ذکر حضور نے فرمایا تھا یعنی مشرقی پاکستان کے دفاع میں دریاؤں کی ایک خاص اہمیت تھی جس کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے پاکستانی فوج مشرقی پاکستان کا دفاع بھی نہیں کرسکی۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث کو اس بات کا بہت دکھ تھا کہ مشرقی اور مغربی پاکستان جو اسلام کے نام پر اکٹھے ہوئے تھے، ایک خون ریز انقلاب کے بعد ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے اس موقع پر اللہ تعالیٰ کے حضور مضطر بانہ دعائیں کی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے منذر الہام ہوئے جن سے معلوم ہوتا تھا کہ ابھی اس خطے کے مسلمانوں نے اس سانحے سے سبق حاصل نہیں کیا اور ابھی مزید تکلیف دہ واقعات مقدر ہیں۔اور ان کا علاج صرف دعا اور استغفار سے ہو سکتا ہے۔چنانچہ آپ نے ۱۹۷۲ء کی مجلس شوری سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے ایک بڑا عظیم انقلاب، بڑا دکھ دہ انقلاب ، راتوں کی نیند حرام کر دینے والا انقلاب آ گیا۔ایسا انقلاب آگیا کہ ابھی تک ہمارے دلوں سے خون بہہ رہا ہے۔یہ لوگوں کی اپنی بدقسمتی ہے، اپنی نالائقی ہے ، اپنے گناہوں کا نتیجہ ہے، اپنی غفلتوں کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے لیکن بہر حال ایک قسم کا دکھ دہ انقلاب ہے جو سارے ملک میں آ گیا ہے یعنی ہمارے ملک کا نصف حصہ ہم سے کٹ گیا ہے۔ہمیں اس کٹے ہوئے حصہ کا احساس ہے کئی ڈاکٹر بھی میرے سامنے بیٹھے ہیں انہیں معلوم ہے کہ بعض لوگ جن کی مثلاً حادثہ میں ٹانگ کٹ جاتی ہے ریل کے نیچے آگئے یا موٹر کے نیچے آگئے یا کوئی اور حادثہ پیش آ گیا تو زخم کی وجہ سے ٹانگ کاٹنی پڑتی ہے۔ٹانگ کٹ جاتی ہے لیکن اس فرد کے دماغ میں اپنی ٹانگ کا احساس باقی رہتا ہے۔کئی دفعہ بے خیالی میں وہاں وہ کھجلی کرنے لگتا ہے۔یہ تو ایک چھوٹا سا حادثہ ہوتا ہے۔یہاں تو ایک عظیم حادثہ، ایک دکھ دہ حادثہ رونما ہو گیا۔اور اس کی وجہ سے ملک کا نصف حصہ جاتا رہا۔لیکن اگر دنیا میں کوئی یہ خیال کرے کہ ہمیں اپنے جسم کے اس حصہ کا احساس باقی نہیں رہے گا تو وہ احمق ہے۔پاکستان اور یہاں کے رہنے والوں پر بے حد ظلم ہوالیکن بہر حال یہ ظلم تو رونما ہو گیا۔گزشتہ سال جو کچھ مشرقی پاکستان میں ہوا ہے اس کو تقریباً تیرہ ماہ ہو گئے ہیں۔اُس وقت مجھے بڑی فکر تھی اور میں نے