سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 156 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 156

156 اس انتخابی مہم میں یہ رسالہ مودودی صاحب کی جماعت اسلامی کی حمایت کر رہا تھا اور اس کے مدیر یہ اعلان کر رہے تھے ، " ہم جیسے لاکھوں اشخاص مولانا مودودی سے متاثر ہیں اور صرف اس لئے متاثر ہیں کہ وہ قرآن کی دعوت دیتے ، انبیاء سے عشق پر ابھارتے اور معاشرہ کو عہد صحابہ کا نمونہ بنانا چاہتے ہیں (۷)۔اور یہ رسالہ اس بات پر مسلسل اپنے صفحات سیاہ کر رہا تھا کہ احمدی اس مرتبہ انتخابی عمل میں حصہ کیوں لے رہے ہیں (۸)۔وہ یہ واویلا تو کر رہے تھے کہ احمدی پیپلز پارٹی کی مددکر رہے ہیں لیکن ساتھ کے ساتھ یہ الزام بھی لگا رہے تھے کہ جمعیت العلماء اسلام، جو کہ جماعت کی مخالفت میں پیش پیش رہی تھی ، کے جلسے بھی احمدیوں کی مدد سے منعقد کیے جارہے ہیں۔اور یہ دعویٰ بار بار کیا جا رہا تھا کہ یہ جماعت اور ان کے لیڈر مثلاً مفتی محمود صاحب قادیانیوں سے مدد حاصل کر رہے ہیں۔اس سے وہ دو مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ایک تو یہ کہ ان الزامات سے خوفزدہ ہو کر جمعیت العلماء اسلام اور ان کے قائدین پہلے سے زیادہ بڑھ کر جماعت احمدیہ کی مخالفت میں جوش و خروش کا مظاہرہ کریں گے اور اس طرح جماعت احمدیہ کو نقصان پہنچے گا۔اور دوسرا مقصد یہ تھا کہ چونکہ یہ جماعت انتخابات میں جماعت اسلامی کے مد مقابل کی حیثیت رکھتی تھی اس طرح ان الزامات سے اس حریف کو نقصان پہنچے گا۔ان الزامات کی زبان ملاحظہ ہو۔مفتی محمود صاحب کی پارٹی جمعیت العلماء اسلام نے آئین شریعت کا نفرنس منعقد کی تو اس پر چٹان نے ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا’ قادیانی جماعت نے آئین شریعت کا نفرنس کے انعقاد پر دس ہزار روپیہ دیا تھا۔غلام غوث ہزاروی اور مفتی محمود کس استاد کے آلہ کار ہیں۔اس مضمون میں مضمون نگار نے انکشاف کیا جمعیت العلماء کے دونوں بزرگ ان دنوں ہوا کے گھوڑے پر سوار ہیں۔انھیں قادیانی گوارا ہیں، کمیونسٹ عزیز ہیں لیکن مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور آغا شورش کا شمیری کے خلاف جوز ہر ان کے دل میں بیٹھ چکا ہے وہ نکلنا مشکل۔غلام غوث اور مفتی محمود پلکوں سے جاروب کشی کرتے ہوئے مبشر حسن کے گھر جاتے ہیں۔ان کے جلسوں اور جلوسوں کی رونق سرنے ہوتے ، وہی انھیں اچھال رہے ہیں اور ان کی بدولت وہ اچھال چھ کا ہو گئے ہیں۔آئین شریعت کا نفرنس میں جو سبیلیں لگی تھیں ، وہ سرخوں کی تھیں یا پھر ایک سبیل کے لیے قادیانی جماعت نے چندہ دیا تھا۔راستہ بھر جھنڈے