سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 155 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 155

155 ان کی ہمدردی کرنے کے تعلقات ہیں۔اس لحاظ سے گویا ہر فرد بشر کے ساتھ ہمارے تعلقات ہیں۔(1) مخالفین جماعت کا غیظ و غضب جب جماعت احمدیہ نے ملک کے مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے آئندہ انتخابات میں ووٹ اور حمایت کے لیے مندرجہ بالا فیصلہ کیا تو جماعت اسلامی اور دوسری نام نہاد مذہبی جماعتوں کی پریشانی میں خاطر خواہ اضافہ ہو گیا۔وہ اس امر کو اپنی فرضی کامیابی کے لیے بہت بڑا خطرہ سمجھ رہے تھے۔انہیں یہ بات کسی طرح نہیں بھا رہی تھی کہ احمدی کسی رنگ میں بھی آئندہ انتخابات میں حصہ لیں۔دوسری طرف یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں بسنے والے احمدی ملک کے محب وطن شہری ہیں۔وہ ٹیکس ادا کرتے ہیں اور اپنے شہری ہونے کے دوسرے حقوق ادا کرتے ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ عمومی طور پر احمدی سیاست میں اس لیے نہیں حصہ لیتے کہ ان کے سامنے اور اعلیٰ مقاصد ہیں اور وہ اپنی توانائی کو ان ادنی کاموں پر خرچ نہیں کرتے۔لیکن یہ ان کا فیصلہ ہے۔قانونی اور اخلاقی طور پر احمدی اس بات کا مکمل حق رکھتے ہیں کہ وہ جب چاہیں قانون کے مطابق ملک کی سیاست اور انتخابات میں جس طرح پسند کریں حصہ لیں۔کسی اور گروہ یا جماعت کا یہ حق نہیں ہے کہ اپنے آپ کو ملک کی ٹھیکہ دار سمجھتے ہوئے اس پر اعتراض کرے۔بہر حال اب مولوی خیالات کے اخبارات اور رسائل اس بات پر اپنے غیظ و غضب کا اظہار کر رہے تھے کہ احمدی اپنے بنیادی شہری حقوق کے مطابق اس انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ان کا خیال تھا کہ یہ حق صرف انہیں حاصل ہے کہ وہ انتخابی مہم میں حصہ لیں اور اس پر ہر طرح سے اثر انداز ہوں بلکہ اس مہم کی آڑ میں جس طرح دل چاہے جماعت احمد یہ پر حملہ کریں اور یہ اعلان کریں کہ وہ اقتدار میں آکر احمدیوں کو ان کے بنیادی حقوق سے بھی محروم کر دیں گے۔لیکن اگر احمدی اپنا قانونی حق استعمال کرتے ہوئے اس کا جواب دیں یا ملکی مفادات کے تحفظ کی خاطر کسی طرح انتخابی عمل میں حصہ لیں تو اس پر وہ آگ بگولہ ہو جاتے تھے۔مولوی ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہیں جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ رسالہ چٹان جماعت کی مخالفت میں پہلے بھی پیش پیش رہ چکا تھا۔