سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 135 of 766

سلسلہ احمدیہ — Page 135

135 متعصب تھے، انہوں نے زور دیا کہ جماعت احمدیہ کو یہ ہسپتال نہ کھولنے دیا جائے ، اس کے علاوہ بعض عیسائی ڈاکٹروں نے بھی مخالفت شروع کی اور معاملہ کھٹائی میں پڑ گیا۔غانا جماعت کی طرف سے حضور کی خدمت میں لکھا گیا کہ یہ رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔حضور نے انہیں تسلی دی گھبراتے کیوں ہو اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔اور حکومت نے بھی کہا کہ فی الحال یہ ڈاکٹر پریکٹس شروع کر سکتا ہے۔مکرم ڈاکٹر صاحب کے حسن کارکردگی سے ہر سطح کے آدمی پر اچھا اثر ہوا اور بالآخر حکومت نے با قاعدہ ہیلتھ سینٹر کے اجراء کی اجازت دے دی اور ۲۶ ستمبر ۱۹۷۱ء کو باضابطہ طور پر افتتاحی تقریب منعقد ہوئی۔اس ہسپتال کے افتتاح میں احمدی احباب کے علاوہ بہت سے غیر از جماعت احباب نے بھی شرکت کی، ان میں ٹیچیمان کے پیرا ماؤنٹ چیف اور ملک کے وزیر برائے سماجی بہبود بھی شامل تھے (۱۰)۔یہ ہسپتال اب تک ٹیچیمان کے علاقہ کی خدمت کر رہا ہے۔سیرالیون سیرالیون میں نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم کے تحت پہلا میڈیکل سینٹر جورو (Joru) کے مقام پر کھلا۔یہ گاؤں کی نیما (Kenema) ڈسٹرکٹ میں ہے۔اس کا آغاز ۵ جون ۱۹۷۱ء کو ہوا۔اور اس کو شروع کرنے کی سعادت مکرم ڈاکٹر محمد اسلم جہانگیری کے حصے میں آئی۔اس روز پورے گاؤں میں میلے کا سا سماں تھا اور وہاں لوگ اپنی روایتی طرز کے مطابق ہر طرف ٹولیوں میں ناچ رہے تھے اور اپنے روایتی ساز بجا رہے تھے۔اخباری نمائندے اور فوٹو گرافر بھی پہنچے ہوئے تھے۔میڈیکل سینٹر کا افتتاح ملک کے وزیر صحت نے کیا۔تقریب کی صدارت سیرالیون کے نیشنل پریذیڈنٹ مکرم چیف گمانگا صاحب نے کی۔جورو کے میڈیکل سینٹر کو ایک ایسی عمارت میں شروع کیا گیا تھا جو علاقہ کے لوگوں نے دوسال کے لیے پیش کی تھی۔اور دس ایکٹر کی اراضی بھی نئی عمارت کی تعمیر کے لیے تحفہ کے طور پر دی گئی تھی۔اور اس کے قیام کے سلسلہ میں علاقہ کے پیرا ماؤنٹ چیف صاحب نے بھر پور تعاون کیا تھا۔لیکن یہ میڈیکل سینٹر نا مناسب جگہ کی وجہ سے کوئی خاطر خواہ کارکردگی نہ دکھا سکا۔اس لیے اسے چند سالوں کے بعد بند کر دیا گیا۔سیرالیون میں جماعت کا ایک اور ہسپتال بو آجے بو کے مقام پر قائم کیا گیا۔یہاں پر محترم ڈاکٹر