سلسلہ احمدیہ — Page 134
134 ہوئے۔اس طرح یہاں پر جماعت کی طبی خدمات کا آغاز ہوا۔اور مکرم ڈاکٹر سید غلام مجتبی صاحب کو اور آپ کے بعد آپ کے صاحبزادے مکرم ڈاکٹر تاثیر مجتبی صاحب کو ایک طویل عرصہ یہاں پر خدمات بجالانے کی سعادت حاصل ہوئی۔اور یہ ہسپتال سرجری کے حوالے سے خاص شہرت حاصل کر گیا۔نہ صرف غانا سے بلکہ دوسرے ممالک سے بھی لوگ یہاں پر آپریشن کرانے کے لیے آنے لگے۔مکرم ڈاکٹر غلام مجتبی صاحب نے یہاں پر ایک مسجد بھی تعمیر فرمائی جس کا ذکر حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ۱۹۷۲ء کے جلسہ سالانہ میں ۲۷ دسمبر کی تقریر میں فرمایا تھا۔غانا میں تیسرا ہسپتال سویڈ رو کے شہر میں قائم ہوا۔یہ شہر نانا کے سینٹرل ریجن میں واقع ہے۔اس کا افتتاح ۱۸ نومبر ۱۹۷۱ء کو پاکستان کے سفیر مکرم ایس۔اے۔سعید صاحب نے کیا۔تقریب کی صدارت مکرم محاما نانی صاحب نائب وزیر زراعت نے کی جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی تھے۔با قاعدہ افتتاح سے کچھ ماہ قبل یہ ہسپتال کام شروع کر چکا تھا۔اس ہسپتال کے بانی ڈاکٹر مکرم ڈاکٹر آفتاب احمد صاحب تھے۔اس ہسپتال کو بھی اپنے آغاز کے اگلے سال مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔یہاں پر کیتھولک پادری ہسپتال کی مخالفت کر رہے تھے۔ایک بنگالی ہندو میڈیکل ڈائریکٹر نے ہسپتال کے آپریشن تھیٹر کے معیار پر سخت تنقیدی رپورٹ لکھی جس کے نتیجے میں وزارت صحت نے ہسپتال بند کرنے اور اجازت نامہ منسوخ کرنے کا حکم جاری کیا مگر پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ رکاوٹیں دور ہو گئیں اور یہ ہسپتال دوبارہ جاری ہوگیا اور اب تک یہ ادارہ اہل خانا کی خدمت کر رہا ہے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثالث نے فیصلہ فرمایا تھا کہ جماعت کا ایک ہسپتال غانا کے شہر ٹیچیمان میں بھی کھولا جائے گا۔یہاں پر دو عیسائی مشنوں کے ہسپتال بھی موجود تھے۔لیکن اس شہر کی مرکزی پوزیشن کی وجہ سے حضور نے یہاں پر جماعتی ہسپتال کھولنے کا فیصلہ فرمایا۔بعض احباب کا خیال تھا کہ یہاں عیسائی مشنوں کی طرف سے دباؤ پڑے گا اور حکومت اس ہسپتال کو روک لے گی۔جس سے جماعت کی سبکی ہو سکتی ہے۔اور بعض احباب نے حضور کی خدمت میں لکھا کہ اس کی بجائے کسی اور جگہ پر ہسپتال کھولنا مناسب ہوگا۔لیکن حضور نے یہیں پر ہسپتال کھولنے کا فیصلہ فرمایا اور یہاں کے لئے مکرم ڈاکٹر بشیر احمد خان صاحب کو بھجوایا گیا۔پہلے یہاں کے عیسائی ہیلتھ آفیسر نے جماعت کے حق میں اچھی رپورٹ دی مگر پھر یہ صاحب رخصت پر چلے گئے اور ان کی جگہ جو افسر مقرر ہوئے وہ بہت