سلسلہ احمدیہ — Page 106
106 سالک، جماعت احمدیہ کے احباب نے اور دیگر مسلم اور غیر مسلم زعماء نے حضور کا استقبال کیا۔ایک مسلمان گورنر مکرم فافانی کمار (Fafani Kumare) اور صدر مملکت کا نمائندہ بھی استقبال کے لئے موجود تھا۔حضور نے ایئر پورٹ پر ریڈیو اور ٹی وی کے نمائندگان اور مختلف اخبارات سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کو انٹر ویو دیا۔اور اس کے بعد حضور نے اپنے استقبال کے لئے آئے ہوئے مسلمان گورنر صاحب اور ان کے نائب کو مخاطب کر کے فرمایا ” مذہب دل کا معاملہ ہے۔جب تک دل نہ جیتے جائیں مذہب قبول نہیں کیا جا سکتا۔یہ کام وحشیانہ طاقت کے استعمال سے نہیں ہوسکتا۔اس کے لئے محبت اور ہمدردی اور خدمت کی ضرورت ہے۔شام کو حضور کی آمد کے مناظر ملکی ٹی وی پر بھی دکھائے گئے۔ہوائی اڈے سے حضور ہوٹل انٹر کانٹینینٹل تشریف لے گئے جہاں حضور کی رہائش کا انتظام تھا۔اسی شام کو حضور نے لائبیریا کے صدر جناب طب مین سے ملاقات فرمائی۔اس ملاقات میں حضور کے ہمراہ مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب، مکرم امین اللہ سالک صاحب امیر و مشنری انچارج لائبیریا ، مکرم چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب، مکرم ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب، مکرم مولوی عبد الکریم صاحب اور مکرم چوہدری محمد علی صاحب بھی شامل تھے۔ملاقات کے دوران ملک کے وزیر خارجہ بھی موجود تھے۔صدر مملکت نے حضور کی آمد پر مسرت کا اظہار کیا۔گفتگو کے دوران صدر نے جماعت کے امیر صاحب مکرم امین اللہ سالک صاحب کے متعلق کہا کہ آپ کے مشنری بہت Forceful ہیں۔اس پر حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے فرمایا He is forceful without using force اس برجستہ جواب پر صدر ٹب مین بہت محظوظ ہوئے۔پھر جماعت احمدیہ لائبیریا کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ میں شامل ہوئے جس میں لائبیریا کے نائب صدر ، چیف جسٹس صاحب ،سپیکر پارلیمنٹ اور مختلف ممالک کے سفیر شامل ہوئے۔۳۰ را پریل کو صبح حضور نے مختلف احباب سے انفرادی ملاقاتیں فرمائیں۔مختلف غیر احمدی احباب جن میں لبنان کے سفیر بھی شامل تھے۔حضور سمندر کے کنارے سیر پر تشریف لے گئے۔تیسرے پہر حضور نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب فرمایا اور سوالات کے جوابات دیئے۔اس پر یس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ اسلام دنیا پر غالب آکر رہے گا اور کوئی