سلسلہ احمدیہ — Page 70
70 نام لینے والے یہاں جمع ہوتے تھے۔تو آج یہاں ہزاروں جمع ہیں۔اور ان سے بھی زیادہ جمع ہیں جو اس وقت ہمارے رجسٹروں میں لکھے ہوئے تھے۔اور اس لئے جمع ہیں تا کہ خدائے واحد کی تسبیح وتحمید کریں اور اس کے نام کو بلند کریں۔یہاں عیسائیت کا قبضہ بتانے والا مر گیا اور اس کے ساتھی بھی مر گئے۔ان کا واسطہ خدا تعالیٰ سے جا پڑا۔مگر احمدیت زندہ رہی۔زندہ ہے اور زندہ رہے گی۔دنیا کی کوئی طاقت اسے مثانہ کی اور نہ مٹا سکے گی۔‘ (۱۱) حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے اس خطاب کے ساتھ اس تاریخی جلسے کا افتتاح ہوا۔موقع کی مناسبت سے اس جلسے پر زیادہ تر تقاریر برکات خلافت، پچاس سالہ جماعتی ترقی اور حضرت خلیفہ امسیح کے دور کی برکات اور اس کی نمایاں شان پر تھیں۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں رسول مقبول ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے ” قل یا ایها الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا یعنی تو کہہ دے اے انسانو! یقیناً میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں“۔آپ دنیا کے ہر شخص کے لیے مبعوث ہوئے تھے خواہ اس کا تعلق دنیا کی کسی قوم سے ہو۔آپ کی غلامی میں جماعت احمدیہ کا یہ فرض ہے کہ آپ کے پیغام کو دنیا کے ہر خطے ہر کونے تک پہنچا ئیں۔اس تعظیم کام کے لیے لازماً مبلغین کی بڑی تعداد درکار ہے۔حضرت مصلح موعود کی خواہش تھی کہ ہزاروں کی تعداد میں مبلغین تیار ہوں تا کہ جماعت یہ فرض ادا کر سکے۔حضور نے جلسے کے دوسرے روز تقریر کے دوران اپنی اس خواہش کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہوئے جماعت کو اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کرنے کی تحریک فرمائی۔” میری یہ خواہش ہے کہ حضرت مسیح موعود کا یہ رویا کہ آپ کو پانچ ہزار سپاہی دیا جائے گا ایک تو تحریک جدید میں چندہ دینے والوں کے ذریعہ پورا ہو اور دوسرا اس رنگ میں پورا ہو کہ ہم پانچ ہزار تحریک جدید کے ماتحت مبلغ تیار کر دیں جو اپنی تمام زندگی اعلاء کلمہ اسلام کے لئے وقف کئے ہوں۔(۱۲)