سلسلہ احمدیہ — Page 666
666 کا باعث بنتے ہیں۔چنانچہ مکرم چوہدری عبد اللطیف صاحب ایک رپورٹ میں یہ ذکر کیا کہ ہیمبرگ میں بھی غیر از جماعت مسجد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس بارے میں اپنی پریشانی کا ذکر کیا تو اس کے جواب میں حضور نے ارشاد فرمایا خانہ کعبہ کفار کے ہاتھ میں رہا اور محمد رسول اللہ اللہ کی عظمت میں فرق نہ آیا تو ان ڈھل مل یقین کے مسجد بنانے سے احمدیت کو کیا نقصان پہنچے گا۔(۱۰) ۱۹۵۵ء میں حضور دورہ یورپ کے دوران جرمنی بھی تشریف لے گئے۔اس دورہ کا ذکر پہلے گزر چکا ہے۔اب تک جرمنی میں جماعت کا مشن بھی قائم ہو چکا تھا اور کچھ سعید فطرت روحوں نے حق کو قبول بھی کیا تھا لیکن ابھی تک یہاں پر جماعت کی کوئی مسجد نہیں بنی تھی۔زیادہ تر احمدی ہمبرگ میں مقیم تھے اور جماعت کا مشن بھی یہیں تھا۔چنانچہ اسی شہر مین جماعت کی پہلی مسجد بنانے کا فیصلہ ہوا۔اور ۲۲ فروری ۱۹۵۷ء کو بروز جمعہ ہمبرگ میں جماعت کی مسجد کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔(۱۱)۲۴ جون ۱۹۵۷ء میں حضور کے حکم کے مطابق حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اس مسجد کا افتتاح فرمایا اور صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے حضور کے نمائیندے کی حیثیت سے اس تقریب میں شرکت فرمائی۔پریس نے اس افتتاح کی خبر کو شائع کیا اور ریڈیو پر جماعت کے مبلغ مکرم چوہدری عبد الطیف صاحب کا انٹرویو نشر ہوا۔(۱۲) اس موقع پر حضور کی طرف سے بھجوائے گئے پیغام میں حضور نے فرمایا 'خدا کرے کہ جرمن قوم جلد اسلام قبول کرے۔اور اپنی اندرونی طاقتوں کے مطابق جس طرح وہ یورپ کی مادیات میں لیڈر ہے، روحانی طور پر بھی لیڈر بن جائے۔(۱۳) ۱۹۵۸ء میں جماعت نے جرمنی میں دوسری مسجد بنانے کے لئے فرینکفرٹ میں زمین خریدی ، اور مسجد کی تعمیر مکمل ہونے پر ۲ ستمبر ۱۹۵۹ء کو حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اس کا افتتاح فرمایا۔(۱۵،۱۴) عبدالشکور کنزے صاحب ۱۹۴۵ء میں احمدی ہوئے تھے۔اور پھر زندگی وقف کر کے قادیان اور ربوہ میں دینی تعلیم حاصل کی۔پھر آپ نے ساڑھے تین سال امریکہ میں مبلغ کے طور پر کام کیا