سلسلہ احمدیہ — Page 665
665 اور تقاریر نشر ہوئیں اور آپ کو ریڈیو کے مذاکرات پر مدعو کیا گیا۔لٹریچر کی اشاعت تبلیغ کی ایک بنیادی ضرورت تھی۔چناچہ جرمن زبان میں لٹریچر کی اشاعت کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ނ پہلے جو کتاب شائع کی گئی وہ حضرت مصلح موعود کتاب The Life and Teachings of Prophet Muhammad کا جرمن ترجمہ تھا۔جب مکرم چوہدری عبد اللطیف صاحب سویٹزرلینڈ میں تھے تو آپ نے ایک عیسائی سے اس کتاب کا جرمن زبان میں ترجمہ کرایا تھا۔ان عیسائی مترجم کا نام B۔Ambouts تھا۔پھر یہ کتاب زیورک میں طبع ہوئی اور اسے جرمنی میں بھی تقسیم کیا گیا۔اس کے بعد آپ نے حضور کی ایک تقریر Why I believe in Islam جو بمبئی ریڈیو سے نشر ہوئی تھی، کا ترجمہ کر کے اسے ہزاروں کی تعداد میں تقسیم کرایا۔اپریل ۱۹۵۱ء میں حضرت مصلح موعود کی تصنیف اسلام کا اقتصادی نظام کا جرمن ترجمہ شائع ہوا۔پھر ایک اور کتابچہ حضرت مسیح موعود کی زندگی، دعاوی ، تعلیمات پر مشتمل شائع کیا گیا۔۱۹۵۱ء میں حضرت مصلح موعودؓ کی تصنیف کمیونزم اور ڈیمارکسی کا ترجمہ شائع ہوا۔(۵،۴۳) ۱۹۵۲ء میں نیورمبرگ کے مقام پر بھی تین افراد نے بیعت کی۔(۶) حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب نے ۱۹۴۵ء میں مشہور اشاعتی ادارے Berlitz سے جرمن زبان میں قرآنِ کریم کا ترجمہ کروایا تھا مگر اُس وقت یہ ترجمہ شائع نہیں ہو سکا تھا۔پھر مکرم شیخ ناصر احمد صاحب نے اس پر نظر ثانی مکمل کی اور ۱۹۵۴ء میں یہ ترجمہ سویٹزرلینڈ میں شائع کیا گیا۔ایک جرمن نو مسلم مکرم عبد اللہ کہنے نے بھی اس نظر ثانی میں مکرم شیخ ناصر احمد صاحب کی اعانت کی۔اس ترجمہ کی اشاعت جرمنی میں تبلیغ اسلام کا ایک اہم سنگ میل ہے۔(۷) یہ ترجمہ جرمنی کے صدر ڈاکٹر ہنس کو بھی دیا گیا۔(۸) ۱۹۵۴ء میں ہمبرگ میں یورپ کے مبلغین کی کانفرنس منعقد ہوئی۔اخبارات نے اس کانفرنس کی خبریں شائع کیں اور اس پر تبصرے کئے۔(۹) جیسا کہ ہم بارہا جائزہ لے چکے ہیں کہ جب کسی شہر میں غیر از جماعت احباب کی مسجد بنتی ہے تو بسا اوقات یہ خانہ خدا بجائے خدمتِ اسلام کے صرف احمدیوں کی مخالفت کے لئے استعمال ہوتی رہتی ہے اور یہ مخالفین اپنے زعم میں ان حرکات سے جماعت کی تبلیغ کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی حرکات کی وجہ سے اسلام کو بھی بد نام کرنے